مطلب یہ ہے کہ زناکاری کرتے وقت ایمان کا نور اس سے جدا ہو جاتا ہے پھر اگر وہ اس کے بعد توبہ کر لیتا ہے تو اس کا نور ِایمان پھر اس کو مل جاتا ہے، ورنہ نہیں۔
حدیث:۲
حضرت صفوان بن عَسَّال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے آیاتِ بَیِّنات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ
(۱) شرک نہ کرو (۲) چوری نہ کرو (۳) زنا نہ کرو (۴)اور اس جان کو نہ قتل کرو جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا مگر حق کے ساتھ (۵) کسی بے قصور کو بادشاہ کے سامنے قتل کیلئے پیش نہ کرو (۶) جادو مت کرو (۷) سود مت کھاؤ (۸) کسی پاکدامن عورت پر زنا کی تہمت نہ لگاؤ (۹) جہاد کفار کے وقت میدان جنگ چھوڑ کر نہ بھاگو (۱۰) اور خاص یہودیوں کے لئے یہ کہ سینچر کے دن کا ا حترا م کریں۔