| جہنم کے خطرات |
حدیث:۳
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول ا للہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ہر گناہ کے بارے میں اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ بخش دے گا۔ لیکن جو شرک کی حالت میں مر گیا اور جس نے کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر د یا اُن دونوں کو نہیں بخشے گا ۔(مشکوۃ المصابیح،کتاب القصاص،الفصل الثانی، الحدیث: ۳۴۶۸، ج۲، ص۲۸۹۔سنن ابی داود،کتاب الفتن والملاحم،باب فی تعظیم قتل المؤمن، الحدیث۴۲۷۰، ج۴، ص۱۳۹)
حدیث:۴
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ایک مسلمان کے قتل میں مدد کرے اگرچہ وہ ایک لفظ بول کر بھی مدد کرے تو وہ اِس حال میں (قیامت کے دن) اللہ عزوجل کے دربار میں حاضر ہو گا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان یہ لکھا ہو گا کہ'' یہ اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس ہو جانے والا ہے۔''(سنن ابن ماجہ،کتاب الدیات،باب التغلیظ فی قتل (مسلم) ظلماً،الحدیث۲۶۲۰، ج۳،ص۲۶۲ )
مسائل و فوائد
خلاصہ کلام یہ ہے کہ کسی مسلمان کو قتل کرنا بہت ہی سخت گناہ کبیرہ ہے۔ پھر اگر مسلمان کا قتل اس کے ایمان کی عداوت سے ہو یا قاتل مسلمان کے قتل کو حلال جانتا ہو تو یہ کفر ہو گا اور قاتل کافر ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جلتا رہے گا۔ اور اگر صرف دُنیوی عداوت کی بِنا پر مسلمان کو قتل کر دے اور اِس قتل کو حلال نہ جانے جب