Brailvi Books

جہنم کے خطرات
175 - 205
چکا ہو تو عار دلانے والا اس وقت تک نہیں مریگا جب تک کہ وہ خود اس گناہ کو نہ کر لے۔
(احیاء علوم الدین،کتاب آفات اللسان،الآفۃ الحادیۃعشرالسخریۃوالاستھزاء،ج۳، ص۱۶۳)
مسائل وفوائد
     بہر حال کسی کو ذلیل کرنے کے لیے اور اس کی تحقیر کرنے کے لیے اس کی خامیوں کو ظاہر کرنا ،اس کا مذاق اڑانا،اس کی نقل اتارنایا اس کو طعنہ مارنا یا عار دلانا یا اس پر ہنسنا یا اس کو برے برے القاب سے یاد کرنا اور اس کی ہنسی اڑانا مثلا آج کل کے بزعم خود اپنے آپ کو عرفی شرفاء کہلانے والے کچھ قوموں کو حقیر و ذلیل سمجھتے ہیں اور محض قومیت کی بنا پر ان کا تمسخر اور استہزاء کرتے اور مذاق اڑاتے رہتے ہیں اور قسم قسم کے دل آزار القاب سے یاد کرتے رہتے ہیں۔ کبھی طعنہ زنی کرتے ہیں۔ کبھی عار دلاتے ہیں یہ سب حرکتیں حرام و گناہ اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں۔

    لہٰذا ان حرکتوں سے توبہ لازم ہے، ورنہ یہ لوگ فاسق ٹھہریں گے۔ اسی طرح سیٹھوں اور مالداروں کی عادت ہے کہ وہ غریبوں کے ساتھ تمسخر اور اہانت آمیز القاب سے ان کو عار دلاتے اور طعنہ زنی کرتے رہتے ہیں اور طرح طرح سے ان کا مذاق اڑایا کرتے ہیں۔ جس سے غریبوں کی دل آزاری ہوتی رہتی ہے۔ مگر وہ اپنی غربت اور مفلسی کی وجہ سے مالداروں کے سامنے دم نہیں مار سکتے۔ ان مالدارو ں کو ہوش میں آ جانا چاہیے کہ اگر وہ اپنے ان کرتوتوں سے توبہ کرکے باز نہ آئے تو یقینا وہ قہر قہار و غضب جبار میں گرفتار ہو کر جہنم کے سزاوار بنیں گے اور دنیا میں ان غریبوں کے آنسو قہر خداوندی کا سیلاب بن کر ان مالداروں کے محلات کو خس و خاشاک کی
Flag Counter