Brailvi Books

جہنم کے خطرات
173 - 205
صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: تین شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ 

(۱) دھوکہ باز (۲) احسان جتانے والا (۳) بخیل
 (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،من قسم الاقوال،المکروالخدیعۃ، الحدیث: ۷۸۲۳، الجزء الثالث،ص۲۱۸)
 (۶۳) کسی کا مذاق اڑانا
   اہانت اور تحقیر کیلئے زبان یا اشارات، یا کسی اور طریقے سے مسلمان کا مذاق اڑانا حرام و گناہ ہے۔ کیونکہ اس سے ایک مسلمان کی تحقیر اور اس کی ایذاء رسانی ہوتی ہے اور کسی مسلمان کی تحقیر کرنا اوردکھ دینا سخت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسْخَرْ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوْمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنْہُنَّ ۚ وَلَا تَلْمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالْاَلْقَابِ ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوۡقُ بَعْدَ الْاِیۡمَانِ ۚ وَمَنۡ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۱۱﴾
ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تووہی ظالم ہیں۔(پ26،الحجرات:11)

اس کی ممانعت اور شناعت کے بارے میں چند حدیثیں بھی وارد ہوئی ہیں چنانچہ
Flag Counter