| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
نماز نہيں پڑھی اور اگر تم یہ نمازاسی طرح پڑھتے ہوئے مر گئے تو حضرت سیدنا محمدمصطفٰی احمد مجتبیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ملت کے علاوہ مرو گے۔''
( صحیح البخاری ،کتاب الاذان ، باب اذا لم یتم الرکوع ، الحدیث ۷۹۱، ص۶۲)
(11)۔۔۔۔۔۔ابو داؤد شريف کی روايت ميں اتنا اضافہ ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا :''تم کتنے عرصے سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہو؟'' اس نے کہا :''چالیس سال سے۔'' تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے ارشاد فرمايا :''تم نے چالیس سال سے کوئی نماز نہيں پڑھی اور اگر تم اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے مر گئے توملتِ محمدی علیٰ صاحبھاالصلوٰۃ والسلام کے خلاف مرو گے۔'' (12)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل اس بندے کی طرف نظرِ رحمت نہيں فرماتاجو رکوع اور سجود کے درميان اپنی کمر کو سيدھا نہيں کرتا (پھر صحابہ کرام علیہم الرضوان سے استفسارفرمایا)اور شرابی، زانی اورچور کے بارے ميں تمہاری کیارائے ہے؟''(یہ اس وقت تھاکہ ابھی حدود کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے ) تو صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :''اللہ عزوجل اور اس کا رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بہتر جانتے ہيں۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''يہ بدکارياں ہيں اور ان پر سزا ہے اور سب سے بدتر چور وہ ہے جو اپنی نماز ميں چوری کرتا ہے۔'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :''آدمی نماز ميں چوری کيسے کرتا ہے؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''وہ اس کے رکوع اور سجود پورے نہيں کرتا۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث طلق بن علی،الحدیث:۱۶۲۸۳،ج۵،ص۴۹۲) (مؤطاامام مالک،کتاب قصرالصلاۃ فی السفر،باب العمل فی جامع الصلاۃ،الحدیث:۴۱۰،ج۱،ص۱۶۴)
(13)۔۔۔۔۔۔رحمتِ کونين، ہم غريبوں کے دل کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو کامل طريقے سے وضو کرتا ہے پھر نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے اور اس کے رکوع و سجود اور قراء ت اچھی طرح اداکرتا ہے تو نماز کہتی ہے :''اللہ عزوجل تيری حفاظت فرمائے جيسا کہ تو نے ميری حفاظت کی۔'' پھر وہ نماز آسمان کی طرف اٹھا دی جاتی ہے اور وہ روشن اور منور ہوتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دئيے جاتے ہيں تا کہ وہ اللہ عزوجل کی بارگاہ ميں حاضر ہو کر اس بندے کے لئے سفارش کرے اور جب بندہ نماز کے رکوع و سجوداور قراء ت پوری نہيں کرتا تو نماز کہتی ہے :''اللہ عزوجل تجھے برباد کرے جس طرح تو نے مجھے ضائع کيا۔'' پھر وہ آسمان کی طرف بلند ہو جاتی ہے اور اس پر تاريکی چھائی ہوتی ہے، اس پر آسمانوں کے دروازے بند کر دئيے جاتے ہيں پھر اسے بوسيدہ کپڑے کی طرح لپيٹ کر نمازی کے منہ پر مار ديا جاتا ہے۔''
( شعب الایمان ،باب فی الطہارت، باب فضل الوضو،الحدیث:۲۷۲۹،ج۳،ص۱۰،مختصر)
(14)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے وقت کے علاوہ نماز پڑھی اور