Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
452 - 857
کبيرہ نمبر79:         واجبات نماز کو ترک کرنا
    نماز کے واجبات ميں سے کسی مجمع عليہ یعنی جس کے واجب ہونے پر اتفاق ہو يا مختلف فيہ یعنی جس کے واجب ہونے ميں اختلاف ہو، کو چھوڑ دينا مثلاً رکوع وغيرہ اطمينان سے ادانہ کرنا۔ 

(1)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''آدمی کی نماز اس وقت تک کامل نہيں ہوتی جب تک وہ رکوع اور سجود ميں اپنی پيٹھ سيدھی نہ کرے۔''
 (جامع الترمذی ، ابواب الصلاۃ ، باب ماجاء فی من لا یقیم صلبہ ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث ۲۶۵ ، ص ۱۶۶۴ )
 (2)۔۔۔۔۔۔ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے کوّے کی طرح ٹھونگيں مارنے، درندوں کی طرح بيٹھنے ، اُونٹ کے جگہ مخصوص کر لینے کی طرح کسی کے مسجد میں اپنے لئے کوئی جگہ خاص کر لینے سے منع فرمايا ہے۔''
 ( سنن ابی داؤد،کتاب الصلاہ ، باب صلاۃ من الایقیم ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث ۸۶۲ ، ص ۱۲۸۷ )
نماز کا چور:
 (3)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''سب سے بدتر چور وہ ہے جو اپنی نماز ميں چوری کرتا ہے۔'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :''يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کوئی شخص اپنی نماز ميں کس طرح چوری کرسکتا ہے؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''وہ اس کے رکوع و سجود پورے نہيں کرتا۔'' يا ارشاد فرمايا : ''وہ رکوع و سجود ميں اپنی پيٹھ سيدھی نہيں کرتا۔'' ۱؎
 ( المسند للامام احمد بن حنبل،الحدیث:۲۲۷۰۵،ج۸،ص۳۸۶)
 (4)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اپنی نماز ميں چوری کرنے والا سب سے بڑا چور ہے۔'' عرض کی گئی :'' يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کوئی شخص اپنی نماز ميں کيسے چوری کر سکتا ہے؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''وہ نماز کے رکوع و سجود پورے نہیں کرتااور لوگوں ميں سب سے بڑا بخيل وہ ہے جو
۱ ؎:شیخ طریقت ،امیر اہلسنّت،بانئ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانامحمد الیاس عطار قادری ضیائی دامت برکاتہم العالیہ اپنی مایہ نازکتاب ''نماز کے احکام'' میں ص۱۷۹پر نقل فرماتے ہیں کہ مفسر شہیر، حکیم الا ُمت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنان اس حدیث کے تحت فرما تے ہیں : ''معلوم ہوا کہ مال کے چور سے نمازکا چور بدتر ہے کیوں کہ مال کا چور اگر سزابھی پاتا ہے تو کچھ نہ کچھ نفع بھی اٹھالیتا ہے مگر نماز کا چورسزاپوری پا ئے گا اس کے لئے نفع کی کوئی صورت نہیں۔ مال کا چور بندے کا حق مارتا ہے جبکہ نماز کا چور اللہ عزوجل کا حق،یہ حالت ان کی ہے جو نماز کو ناقص پڑھتے ہیں اس سے وہ لوگ درس عبرت حاصل کریں جو سِرے سے نماز پڑھتے ہی نہیں ۔''        (بحوالہ مرأۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح،ج۲،ص۷۸)
Flag Counter