Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
450 - 857
مبارکہ سے استدلال کيا جائے کہ بے نمازی سے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ذمہ اٹھ جاتا ہے اور اس کا کوئی عہد نہيں کيونکہ يہ باتيں اس کا خون مباح ہونے ميں ظاہر يا صريح ہيں اورجب اس کا خون بہانا لازم ہوتواسے قتل کرنا لازم ہو گا، البتہ زکوٰۃ ترک کرنے پر قتل نہ کيا جائے گا کيونکہ زکوٰۃ زبردستی بھی لی جا سکتی ہے نہ روزہ ترک کرنے پر قتل کيا جاسکتا ہے کيونکہ اسے قيد کر کے اور مفطر اشياء روک کر روزہ رکھنے پر مجبور کيا جا سکتا ہے مثلاً کھانا اور پانی روک کر اسے کمرے ميں بند کر ديا جائے، لہٰذا جب اسے يقين ہو جائے گا کہ دن کے وقت اسے کھانے پينے کی اشياء ميسر نہيں ہو سکتيں تو وہ رات ميں نيت کرکے روزہ رکھ لے گا اور اسی طرح حج ترک کرنے پر بھی قتل نہ کيا جائے گا کيونکہ يہ بعد ميں ادا کرنے سے بھی ادا ہی ہو گا قضا نہ ہو گا اور اس کے انتقال کی صورت ميں اس کے ترکے سے حج کی قضا کی جا سکتی ہے جبکہ نمازکا معاملہ ان سب سے مختلف ہے، لہٰذا اس کے لئے قتل سے مناسب کوئی سزا نہيں اور جب زکوٰۃ کی وصولی کے لئے جنگ جائز ہے تو لوگوں کو نماز کی ادائیگی پر آمادہ کرنے کے لئے بے نمازی کو قتل کرنا بدرجہ اَولیٰ جائز ہے تا کہ وہ قتل کے خوف سے نماز پڑھنے لگے۔'' ۱؎
۱؎ :ائمہ ثلاثہ امام شافعی،امام مالک،امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم کے نزديک بادشاہِ اسلام کو بے نمازی کے قتل کرنے کا حکم ہے جبکہ احناف رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہيں :'' اسے قيد کيا جائے يہاں تک کہ توبہ کرے اور نماز پڑھنے لگے۔''         (ماخوذازبہار شريعت ج ۱،حصہ ۳،ص۹)
Flag Counter