Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
391 - 857
احاديثِ مبارکہ ميں بيان کردہ وعيدوں سے استدلال کيا ہے کيونکہ پيٹ ميں جہنم کی آگ بھرنا سخت عذاب کی وعيد ہے پھر ميں نے شيخ الاسلام صلاح الدين علائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اس کے کبيرہ گناہ ہونے کی وہی توجيہ بيان کرتے ديکھا جو ميں نے بيان کی ہے البتہ انہوں نے وہ توجيہ اصحابِ مذہب سے نقل کی ہے، شيخ الاسلام جلال بلقينی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ان کی اتباع کی اور فرمايا کہ شيخ صلاح الدين علائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہيں :''ہمارے اصحاب نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ سونے اور چاندی کے برتنوں ميں پانی پينا گناہِ کبيرہ ہے اور اس پر گذشتہ قاعدہ صادق آتا ہے کہ ہر وہ گناہ جس پر جہنم کی وعيد آئی ہو گناہِ کبيرہ ہے۔''

    سیدنا دميری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے ايک جماعت سے نقل کر کے اپنے منظوم کلام ميں ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
وَعَدَّ مِنْھُنَّ ذُوُوْا الْاَعْمَالِ		اٰنِيَۃَ النَّقْدِينِ فِی اسْتِعْمَالِ
ترجمہ :اور باعمل لوگوں نے سونے،چاندی کے برتنوں کا استعمال بھی حرام اُمور ميں شمار کيا ہے۔

    مگر سیدنا اذرعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اوردیگر نے جمہورعلماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ سے نقل کیا ہے کہ يہ گناہ صغيرہ ہے۔
تنبیہ2:
    حديثِ پاک ميں سونے چاندی کے برتنوں ميں کھانے پينے کی ممانعت بطورِ مثال پيش کی گئی ہے، اسی لئے علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے ان کے استعمال کے دیگر طریقوں کو بھی اس حکم کے ساتھ ملا ديا ہے اور سونے چاندی کے برتنوں کو جمع کرنا بھی اس کے ساتھ ملحق کر ديا ہے۔ لہذا يہ بھی حرام ہے کيونکہ انہیں جمع کرنا ان کے استعمال کی طرف لے جاتا ہے جيسے کھيل کود کے آلات کو جمع کرنا۔
وہ برتن جن کے استعمال کی رخصت ہے:
    اِنَآءٌ(یعنی برتن) سے مراد ہر وہ چيز ہے جو عرف ميں اس کام میں استعمال ہو جس کے لئے اسے بنایا گیا ہو، لہذا اس ميں سرمہ ڈالنے والی سلائی، سرمہ دانی، خلال کرنے اورکان سے ميل نکالنے والی سلائی وغيرہ بھی شامل ہے، البتہ اگر کسی کی آنکھ ميں تکليف ہو اور اسے عادل طبيب کہے کہ سونے يا چاندی کی سلائی سے سرمہ ڈالنا اس تکليف کے لئے مفيد ہے تو اس کے لئے ضرورت کی بناء پر اسے استعمال کرنا جائزہے۔

     استعمال کی حرمت کے لئے برتن کا خالص سونے يا چاندی کا ہونا ضروری نہيں بلکہ اگر تانبے کے برتن پر سونے يا چاندی کا پانی اس طرح چڑھايا جائے کہ وہ اس کو چھپا دے، لیکن جب اسے آگ پر رکھا جائے تب اس کا اثر ظاہر ہو تو اس کا استعمال بھی حرام ہے،۱؎
۱؎ :احناف رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزديک: ''ٹو ٹے ہوئے برتن کو سونے يا چاندی کے تار سے جوڑنا جائزہے جبکہ اس جگہ سے استعمال نہ کيا جائے۔''
 (بہار شريعت،ج۲،حصہ ۱۶،ص۳۵)
Flag Counter