Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
301 - 857
کے ساتھ ساتھ اللہ عزوجل کے لئے ایسی صفت کی زیادتی کو کہتے ہیں جو اللہ عزوجل کے جود وکرم کے لائق نہ ہو اور تفسیر ابن منذرمیں حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللہُ َتعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے :''سب سے بڑا  گناہ اللہ عزوجل کی خفیہ تدبیرسے بے خوف اوراُس کی رحمت سے مایوس اورنااُمید ہونا ہے۔''
(کنزالعمال،کتاب الاذکار،قسم الافعال، سورۃ النساء، الحدیث:۴۳۲۲،ج۲،ص۸۶۷)
     تفسیر ابن جریر میں حضرت سیدنا ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اسی طرح کا ایک قول مروی ہے۔

وسوسہ:یہ بات ہمارے ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے اس قول کے منافی ہے جس میں انہوں نے ارشاد فرمایا ہے :''مریض کے لئے اللہ عزوجل سے اچھا گمان رکھنا مستحب ہے۔'' اورایک قول یہ ہے کہ''خوف کو اُمید پر غالب رکھنا بہتر ہے۔'' جبکہ سیدنا امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں :''اگر بندہ نااُمیدی کی بیماری سے امن میں ہو تو امید رکھنا بہتر ہے اور اگر خفیہ تدبیر سے بے خوف ہو تو خوف رکھنا بہترہے۔''

جواب:یہاں دو مقامات پر کلام ہے،

(۱)۔۔۔۔۔۔ایک شخص کو رحمت اور عذاب دونوں کی امید ہے یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ''اگر مریض ہے تو امید کی جانب کو غلبہ دینا مستحب ہے اور اگر تندرست ہے تو اس میں اختلاف ہے۔'' جیسا کہ آپ جان چکے ہیں۔

(۲)۔۔۔۔۔۔ایک شخص مسلمان ہونے کے باوجود رحمت کی انواع سے مایوس ہے یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں یہاں گفتگو ہو رہی ہے، یہی مایوسی بالاتفاق کبیرہ گناہ ہے۔کیونکہ یہ ان نصوصِ قطعیہ کی تکذیب کو لازم ہے جن کی طرف ہم اشارہ کر چکے ہیں۔ پھر اس مایوسی سے کبھی اس سے بھی سخت حالت مل جاتی ہے اور وہ یہ کہ رحمت نہ ہو نے کا یقین کر لینا اور(فَھُوَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ) کا سیاق اسی پردلالت کرتا ہے اورکبھی یہ مایوسی رحمت نہ ہونے کے یقین کے ساتھ ساتھ کافروں کی طرح سخت عذاب کے یقین کے ساتھ مل جاتی ہے اور یہاں بدگمانی سے یہی اعتقاد مراد ہے اس میں خوب غور کرنا چاہے کیونکہ یہ نہایت اہم ہے۔
Flag Counter