Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
300 - 857
تنبیہ:
    اس گناہ کو اس کے بارے میں وارد سخت وعید کی بناء پر کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اوروہ وعید آپ جان چکے ہیں بلکہ بیشتراحادیثِ مبارکہ میں اس بات کی تصریح  گزر چکی ہے کہ اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس ہونا کبیرہ گناہ ہے یہاں تک کہ حضرت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں اسے اکبر الکبائر بھی کہا گیا ہے۔
کبیرہ نمبر41:         اللہ عزوجل سے بُرا گمان رکھنا

کبیرہ نمبر42:     رحمتِ اِلٰہی عزوجل سے ناامید ہونا
اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے
وَمَنۡ یَّقْنَطُ مِنۡ رَّحْمَۃِ رَبِّہٖۤ اِلَّاالضَّآلُّوۡنَ ﴿56﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہومگروہی جوگمراہ ہوئے۔ (پ14، الحجر:56)

(1)۔۔۔۔۔۔ حضورنبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اللہ عزوجل سے برا گمان رکھنا سب سے بڑا  گناہ ہے۔''
      (فردوس الاخبارللدیلمی، با ب الالف ، الحدیث: ۱۴۷۲،ج۱،ص۲۱۱)
تنبیہ:
    ان دونوں گناہوں کواللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس ہونے سے علیحدہ کبیرہ گناہ شمارکرنا دراصل علامہ جلال بلقینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اتبا ع میں ہے، گویا انہوں نے ان تینوں کے درمیان کے تلازم کو نظر انداز کر دیا، اسی لئے سیدنا ابو ذرعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یاْس یعنی مایوسی کا معنی قنوط یعنی ناامیدی بتایا، اور ظاہربھی یہی ہے کہ قنوط، یاْس سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ اللہ عزوجل نے اپنے اس فرمان عالیشان:
وَ اِنۡ مَّسَّہُ الشَّرُّ فَیَـُٔوۡسٌ قَنُوۡطٌ ﴿49﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اورکوئی بُرائی پہنچے توناامید آس ٹوٹا۔(پ25، حٰمۤ السجدۃ:49)

میں اسے یاْس کے بعد ذکر فرمایا ہے، اوریہ بھی ظاہرہے کہ بدگمانی ان دونوں سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ بدگمانی مایوسی اور ناامیدی
Flag Counter