آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۹۳۳ہجری کے اختتام پرمکہ مکرّمہ تشريف لے گئے اور فريضہ حج کی ادائيگی کے بعد ايک سال وہیں قيام فرمايا پھر ۹۳۷ہجری کے آخر ميں اپنی اولاد کے ساتھ دوبارہ حج کياتيسری بار ۹۴۰ہجری ميں حج کیااور مکہ مکرّمہ ميں ہی قیام پذیر ہوگئے اور وہیں درس وتدريس ،افتاء اور تصنيف وتاليف کی مصروفیت ميں مشغول رہے۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بہت متبحرعالم اورحافظ الحديث تھے،آپ کو بارگاہ ايزدی سے قوی حافظے کی لازوال دولت عطا کی گئی تھی،آپ کے محفوظات ميں سے''المنھاج الفرعی''ہے،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی جلالت علمی کا اندازہ اس بات سے لگايا جا سکتا ہے کہ بيس سال سے کم عمرميں ہی آپ کے مشائخ نے مسندافتاء وتدريس آپ کوعطافرمادی،آپ دنیاسے بے رغبت،برائی سے منع کرنے والے اورنیکی کی دعوت عام کرنے والے اوراہل تصوف کے بہت معتقدتھے چنانچہ آپ نے صوفياء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے منکرین ابن تیمیہ اور ابن قيم وغيرہ کا بڑے شدومدکے ساتھ رَدواِبطال کيا۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کئی يادگارتصانيف چھوڑيں ،جن کے نام يہ ہيں :
(۱)شرح مختصرالروض(۲)شرح مختصرابی الحسن البکری(۳)تحفۃ المحتاج شرح المنھاج(۴)فتح الجوادشرح الارشادوھوصغير(۵)الامدادشرح الارشادوھوکبير(۶)تحذير الثقات عن اکل الکفتۃوالقات(۷)کف الرعاع عن محرمات اللہووالسماع(ھامش الزواجر)(۸)الاعلام بقواطع الاسلام(۹)الزواجر عن اقتراف الکبائر(۱۰)الفتاوٰی الفقہيۃ(۱۱)الفتاوٰی الھيتمیۃ:اربع مجلدات(۱۲)درالغمامۃ فی الزروالطيلسان والعمامۃ(۱۳)الجوھرالمنظم فی زيارۃ قبرالنبی المعظّم(۱۴)شرح