Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
283 - 857
تومیں نماز اور ذکر کو آپ(علیہ الصلوٰۃ والسلام )پر بھاری کر دیتا ہوں۔'' پھرآ پ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے مزید دریافت فرمایا کیا کوئی اور چیز بھی ہے؟''تو شیطان نے جواب دیا نہیں۔'' تو آپ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:''اللہ عزوجل کی قسم! میں کبھی شِکم سیرہو کر کھانا نہیں کھاؤں گا۔'' تو شیطان بولا:''اللہ عزوجل کی قسم! میں بھی کسی مسلمان کونصیحت نہیں کروں گا ۔ ''
 (حلیۃ الاولیاء،وہیب بن ورد،الحدیث:۱۱۷۰۴،ج۸،ص۱۵۷،بتغیرٍ قلیلٍ)
طمع:
   جب کسی چیز کی طمع دل پر غالب آجائے تو شیطان اسے خوب آراستہ کرتا رہتا ہے،یہاں تک کہ وہ اس لالچی کے لئے معبود بن جاتی ہے اور پھر بندہ اسی کی محبت کی رسی میں بندھا غورو فکر کرتا رہتا ہے کہ کسی طرح اسے راضی کر سکے اگرچہ اللہ عزوجل کو ناراض کر بیٹھے، جیسے حرام کا اقرار کرنے کے باوجود اس کے لئے فریب کاری سے کام لینا۔
جلدبازی کرنااور ثابت قدمی چھوڑدینا:
    اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے کہ،
وَکَانَ الۡاِنۡسَانُ عَجُوۡلًا ﴿11﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور آدمی بڑاجلدبازہے۔ (پ15، بنی اسرآء یل:11)

(101)۔۔۔۔۔۔حضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' جلدبازی شیطان کی طرف سے اور غوروفکراللہ عزوجل کی طرف سے ہے۔''
(کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال، الحدیث: ۵۶۷۲،ج۳،ص۴۴،تقدما تأخرا)
    جلد بازی ہوتی تو شیطان کی طرف سے ہے مگر وہ خود جلدباز نہیں ہوتا بلکہ انسان کو اس طرح آہستہ آہستہ برائی میں مبتلا کرتا ہے کہ اسے خبر بھی نہیں ہوتی، لیکن جو شخص کوئی عملی قدم اٹھانے سے پہلے خوب غورو فکر کر لیتا ہے تو اسے اس کام میں بصیرت حاصل ہو جاتی ہے، لہٰذا جب تک کسی کام میں بصیرت حاصل نہ ہو تو فوراً واجب ہونے والے عمل کے علاوہ کسی بھی عمل میں جلد بازی نہیں کرنی چاہے جبکہ یہ( عَلَی الْفَوْر واجب ہونے والا ) عمل ایسا ہو کہ اس میں غوروفکرکی کوئی گنجائش ہی نہ ہو۔
مال میں زیادتی کی خواہش:
    جو مال حاجت اور ضرورت سے زائد ہو تو وہ شیطان کا ٹھکانا ہوتا ہے کیونکہ جس کے پاس اس قسم کا زائد مال نہیں ہوتا اس کا دل بے جا تفکرات سے خالی ہوتا ہے، لہٰذا اگر ایسے شخص کو کسی راستے میں 100دینار پڑے ہوئے مل جائیں تو اس کے دل میں ایسی 10خواہشیں سر اٹھانے لگتی ہیں کہ جن میں سے ہر خواہش 100دینار کی محتاج ہوتی ہے، لہٰذا وہ مزید 900دینار کا محتاج ہو جاتا ہے، حالانکہ وہ 100دینار ملنے سے پہلے ہر خواہش سے بے پرواہ تھا، پھر جب اس نے 100دینار پالئے تو یہ خیال کیا کہ وہ محتاج نہیں ہے حالانکہ اس کا گھر، خادمہ اور سازوسامان خریدنے کے لئے 900دینار کا محتاج ہونا ظاہر ہو چکا، اور صرف
Flag Counter