Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
253 - 857
وَالَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُہُمۡ مِّنْ حَیۡثُ لَایَعْلَمُوۡنَ ﴿182﴾ۚوَ اُمْلِیۡ لَہُمْ ؕاِنَّ کَیۡدِیۡ مَتِیۡنٌ ﴿183﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں جلد ہم انہیں آہستہ آہستہ عذاب کی طرف لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر نہ ہو گی اور میں انہیں ڈھیل دوں گابے شک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے۔(پ 9 ،الاعراف:182،183)
تواضع اورعاجزی کی فضیلت
    جب آپ پر غرور و تکبر اور خودپسندی کی مذمت، ان کی آفات اور برائیاں ظاہر ہو گئیں تو اب تقاضا اس بات کا ہے کہ تواضع کے فضائل اور اس کے بلند مرتبہ کو بھی بیان کیا جائے کیونکہ اشیاء کی پہچان ان کی ضدوں ہی سے ہوتی ہے۔لہٰذا اس سلسلے میں وارد روایات کچھ اس طرح ہیں:

(82)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' بے شک اللہ عزوجل نے میری طرف وحی فرمائی کہ تم لوگ اتنی عاجزی اختیار کرو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کسی پر فخر کرے نہ کوئی کسی پر ظلم کرے۔''
 (صحیح مسلم، کتاب الجنۃ ونعیمھا، باب صفات التی یصرف بھا، الحدیث: ۷۲۱۰،ص۱۱۷۵)
 (83)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا، اللہ عزوجل بندے کے عفو ودرگزر کی وجہ سے اس کی عزت میں اضافہ فرما دیتا ہے اور جو شخص اللہ عزوجل کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ عزوجل اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔''
 (صحیح مسلم، کتاب البر،باب استحباب العفووالتواضع، الحدیث: ۶۵۹۲،ص۱۱۳۰)
 (84)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''تواضع بندے کی رفعت میں اضافہ کرتی ہے، لہٰذا تواضع اختیار کرو، اللہ عزوجل تمہیں بلندی عطا فرمائے گا اور درگزرسے کام لینابندے کی عزت میں اضافہ کرتاہے لہٰذا عفو ودرگزرسے کام لیا کرو، اللہ عزوجل تمہیں عزت عطا فرمائے گا اور صدقہ مال میں اضافہ کرتاہے لہٰذا صدقہ دیا کرو اللہ عزوجل تم پر رحم فرمائے گا۔''
 (کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال، با ب التواضع، الحدیث: ۵۷۱۶،ج۳،ص۴۸)
 (85)۔۔۔۔۔۔نبی کریم ،رؤف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''خوشخبری ہے اس کے لئے جوعیب نہ ہونے کے باوجود تواضع اختیار کرے، سوال کئے بغیر خود کو ذلیل سمجھے، جائز طریقے سے کمایا ہوا مال راہ خدا عزوجل میں خرچ کرے، بے سرو سامان اور مسکین لوگوں پر رحم کرے اور علم وحکمت والے لوگوں سے میل جول رکھے، خوش بختی ہے اس کے لئے جس کی کمائی پاکیزہ ہو، باطن اچھاہو، ظاہر بزرگی والا ہو اور جولوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے، اور سعادت مندی ہے اس کے لئے
Flag Counter