Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
249 - 857
باتوں میں غور کر کے اس کا علاج کرنا لازم ہے تا کہ تکبر کی جڑیں ختم ہو جائیں، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہمعصر لوگوں کو مجالس میں خود پر مقدم کرے، مگر اس صورت میں یہ ضروری ہے کہ اس کا انداز لوگوں کو اس گمان میں نہ ڈالے کہ تواضع ظاہر کر رہا ہے جیسے ان کی صف چھوڑ کر گندی جگہ پر بیٹھنا وغیرہ کیونکہ یہ تو عین تکبر ہے، اور اس طریقہ سے بھی تکبر کی جڑیں کاٹ سکتا ہے کہ وہ فقیر کی دعوت قبول کرے، اس سے گفتگو کرے، اسے اپنے ساتھ بٹھائے، اپنی ضروریات کے لئے خود بازار جائے، فقر ا ء و محتاج لوگوں کی حاجت پوری کرنے کے لئے بھی بذات خود جائے اور اپنی حاجت پر دوسروں کی حاجت کو ترجیح دے تو حدیثِ مبارکہ کے مطابق یہ تمام باتیں تکبر سے نجات کے طریقے ہیں، یہ باتیں خلوت اور جلوت دونوں ہی میں یکساں ہوں ورنہ وہ یا تو متکبر ہو گا یا پھر ریاکار۔اور یہ دونوں ہی یعنی تکبر اور ریاکاری امراضِ قلوب میں سے ہیں، اگر ان کا علاج نہ کیا جائے تو یہ ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں۔ بعض اوقات لوگوں کو یہ عادت مہلت دیتی ہے اور وہ جسم کو سنوارنے میں مشغول ہو جاتے ہیں حالانکہ آخرت میں دل کی سلامتی ہی سے سلامتی حاصل ہو گی یعنی شرک یا غیراللہ کے خیال سے پاک دل لے کر آئے گا چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اِلَّا مَنْ اَتَی اللہَ بِقَلْبٍ سَلِیۡمٍ ﴿ؕ89﴾
ترجمۂ کنز الایمان:مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر۔(پ19 ، الشعرآء: 89)
تنبیہ 3:
    عُجب یعنی خودپسندی کی مذمت اور اس کے مہلک ہونے کا ذکر احادیث میں گزرچکا ہے، اللہ عزوجل نے بھی اپنے اس فرمان عالیشان سے اس کی مذمت فرمائی:
وَیَوْمَ حُنَیْنٍ لا اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا
ترجمۂ کنزالایمان:اورحنین کے دن جب تم اپنی کثرت پراِترا گئے تھے تووہ تمھارے کچھ کا م نہ آئی۔(پ10، التوبۃ:25)
(2) وَ ہُمْ یَحْسَبُوۡنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوۡنَ صُنْعًا ﴿104﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ اس خیال میں ہیں کہ ہم اچھا کام کر رہے ہیں ۔(پ 16 ، الکھف:104)

    بعض اوقات بندہ اپنے کسی کام کو پسند کرتا ہے حالانکہ کبھی تو وہ اس میں صحیح ہوتا ہے اورکبھی غلط۔ حضرت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''ہلاکت دو چیزوں میں ہے: (۱)مایوسی (۲) اور خودپسندی میں۔'' یعنی مایوس شخص اعمال کے نفع سے ناامید ہوتا ہے جس کا لازمی اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص اعمال چھوڑ دیتاہے، اور خودپسندی کا شکار اپنے آپ کو خوش بخت اور مراد پالینے والا سمجھتا ہے لہٰذا عمل کی ضرورت نہیں سمجھتا، اسی لئے اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:
Flag Counter