| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
قُتِلَ الْاِنۡسَانُ مَاۤ اَکْفَرَہٗ ﴿ؕ17﴾مِنْ اَیِّ شَیۡءٍ خَلَقَہٗ ﴿ؕ18﴾مِنۡ نُّطْفَۃٍ ؕ خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ ۙ﴿19﴾ثُمَّ السَّبِیۡلَ یَسَّرَہٗ ۙ﴿20﴾ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقْبَرَہٗ ﴿ۙ21﴾ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَہٗ ﴿ؕ22﴾کَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَہٗ ﴿ؕ23﴾فَلْیَنۡظُرِ الْاِنۡسَانُ اِلٰی طَعَامِہٖۤ ﴿ۙ24﴾
ترجمۂ کنزالایمان:آدمی ماراجائیوکیاناشکرہے اسے کاہے سے بنایا پانی کی بوندسے اسے پیدا فرمایاپھراسے طرح طرح کے اندازوں پر رکھاپھراسے راستہ آسان کیاپھر اسے موت دی پھر قبر میں رکھوایا پھر جب چاہا اسے باہر نکالا کوئی نہیں اس نے اب تک پورا نہ کیا جو اسے حکم ہوا تھا توآدمی کو چاہے اپنے کھانوں کو دیکھے ۔(پ30، عبس:17 تا24)
لہٰذا جو شخص اس میں اور اس جیسی ان دیگر مثالوں میں غور کرے جن کی طرف یہ آیات اشارہ کرتی ہیں تو وہ جان لے گا کہ وہ ہر ذلیل وحقیر چیز سے بھی زیادہ حقیر اور ذلیل ہے، اور عاجزی وانکساری اسی کے لائق ہے، نیز اسے چاہے کہ وہ اپنے رب عزوجل کی معرفت حاصل کرے تا کہ وہ یہ جان سکے کہ عظمت اور کبریائی فقط اللہ عزوجل ہی کو زیبا ہے، جبکہ میرے نفس کو ایک لمحے کے لئے بھی خوش ہونا مناسب نہیں، آدمی کا اپنی تخلیق کے ابتدائی اور وسطی مراحل کی حقیقت جان لینے کے بعد یہ غرور وتکبر کیسا؟ اور اگراس کا انجام بھی اس پر ظاہر ہو جائے تو وہ یہ تمنا کرنے لگے کہ کاش! وہ کوئی جانور ہوتا اگرچہ اسے کتا ہی بنا دیا جاتا خصوصاً جبکہ اللہ عزوجل کے علم میں وہ جہنمی ہو، اور اگر دنیا والے جہنمیوں میں سے کسی کی صورت دیکھ لیں تو اس کی بد صورتی دیکھ کر چکرا کر گر پڑیں بلکہ اس کی بدبو سے مر ہی جائیں، تو جس کا انجام ایسا ہو۔وہ کیسے تکبراوربڑائی میں مبتلاہوسکتا ہے؟ اور کون سا بندہ ایسا ہے جس نے کوئی ایسا گناہ ہی نہ کیا ہو کہ جس کی وجہ سے وہ اللہ عزوجل کے عقاب کا سزوار ہو سکے، ہاں اگر اللہ عزوجل چاہے گا تو اپنے فضل سے اسے معاف فرما دے گا۔
جو ہماری ان باتوں میں حقیقی غور وفکر کرے تو اس کی نظر میں اس کے علم وعمل، جاہ و منصب اور مال کی اہمیت ختم ہو جائے گی نیز وہ ہر چیز سے بھاگ کر اللہ عزوجل کی بارگاہ میں آکر اس کے آگے گڑگڑائے گا اور یہ یقین کر لے گا کہ وہ ہر چیز سے زیادہ ذلیل وحقیر ہے، تو پھر وہ اللہ عزوجل کے نزدیک بد بخت ہونا کیسے پسند کریگا؟
نفس میں ظاہر ہونے والے کا مل تکبر کا علم اس وقت ہوتا ہے جب کسی بندے کو اس کا نفس یہ خیال دلاتا ہے کہ وہ تکبر سے پاک ہے، لہٰذا ایسے شخص کو چاہے کہ وہ اپنے کسی ہم عصر سے کسی مسئلہ میں مناظرہ کرے، پھر اگر اس کے مخالف کے ہاتھ پر حق ظاہر ہو جائے تو اگر اس کا دل اسے قبول کرنے پر مطمئن ہو اور اس کے شکر اور فضلیت کا اعلان کر دے اور یہ بیان کر دے کہ اس کے ہاتھ پرحق ظاہر ہوگیا ہے اور یہی معاملہ ہر اس شخص کے ساتھ ہو جس سے اس نے مناظرہ کیا ہو تو قرائن اس بات کو ظاہر کر دیں گے کہ وہ تکبر سے بری ہے، اوراگر ان میں سے کوئی شرط مفقود ہو تو بلاشبہ یہ شخص خود پسندی وتکبر میں مبتلا ہے اور اس پر گذشتہ