(شعب الایمان، باب فی الملابس والاوانی، فصل فی التواضع، الحدیث:۶۱۶۱،ج۵،ص۱۵۳)
(34)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے اپنا سامان خود اٹھا لیا وہ تکبر سے آزاد ہو گیا۔''
(شعب الایمان، باب فی حسن الخلق، فصل فی التواضع، الحدیث: ۸۲۰۱،ج۶،ص۲۹۲)
(35)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''عنقریب میری اُمت کو پچھلی اُمتوں کی بدترین بیماری پہنچے گی جو کہ تکبر، کثرتِ مال کی حرص، دنیوی معاملات میں کینہ رکھنا، باہم ایک دوسرے سے بغض رکھنا اور حسد (کرنے پر مشتمل )ہے ، یہاں تک کہ وہ سرکشی اختیار کر لے گی۔''
(المستدرک ،کتاب البر والصلۃ ، باب داء الاعم۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۷۳۹۱،ج۵،ص۲۳۴)
(36)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''فخر اور تکبر اونٹوں کے مالکوں میں ہوتاہے جب کہ اطمینان و وقار بھیڑ بکریوں کے مالکوں میں ہوتاہے۔''
(المسندللامام احمد بن حنبل، مسند ابی سعید الخدری، الحدیث: ۱۱۳۸۰،ج۴،ص۸۵،''بتقدمٍ وتأخرٍ'')
اللہ تعالٰی کے نزدیک ناپسندیدہ لوگ
(37)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل قیامت کے دن تین شخصوں سے نہ کلام فرمائے گا، نہ انہیں پاک کریگا اور نہ ہی ان پر نظرِ رحمت فرمائے گا بلکہ ان کے لئے درد ناک عذاب ہو گا اور وہ تین یہ ہیں: بوڑھا زانی، جھوٹا بادشاہ، اور متکبر فقیر۔''
(صحیح مسلم ،کتاب الایمان، باب بیان غلظ تحریم ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۹۶،ص۶۹۶)
(38)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل ان چار لوگوں کو قطعا پسند نہیں فرماتا: (۱)کثرت سے قسمیں کھانے والا تاجر (۲)متکبر فقیر(۳)بوڑھا زانی اور (۴)ظالم حکمران۔''
(سنن النسائی،کتاب الزکاۃ،باب الفقیر المختال، الحدیث: ۲۵۷۷،ص۲۲۵۴)