| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
کیونکہ یہ قبیح اور برے اعمال کی طرف لے جاتا ہے چنانچہ، (110)۔۔۔۔۔۔ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''مؤمن کو غصہ جلدی آتا ہے اور وہ راضی بھی جلدی ہو جاتا ہے، لہٰذا یہ اسی وجہ سے ہے۔''
(احیاء علوم الدین، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد،باب بیان القدرالذی یجوز۔۔۔۔۔۔الخ،ج۳،ص۲۲۳)
(111)۔۔۔۔۔۔ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل نے مخلوق کو غصہ اور رضا کے لحاظ سے تیز اور سست دو حصوں میں تقسیم فرما دیا ہے لہٰذا جو کسی ایک میں تیز ہو گا تو دوسرے میں سست ہو گا،اور اللہ عزوجل نے ان میں سے غصہ کے سست اور رضا میں جلدی کرنے والے کو بہتر بنایا اور اس کے بر عکس کو بدتر بنایا۔''
تنبیہ 6:
(کشف الخفاء ،حرف المیم، الحدیث:۲۶۸۴،ج۲،ص۲۶۲)
تنبیہ7:
ابھی آپ نے حسد کا مطلب جان لیا کہ حسد صرف اس نعمت پرہوتاہے جس کو آپ غیر کے لئے ناپسند کریں اور اس سے اس نعمت کے زوال کو پسند کریں، اگر آپ اپنے لئے اس نعمت کو پسند کریں اور غیر سے اس نعمت کے زوال کی تمنا نہ کریں تو یہ غِبطہ( یعنی رشک کرنا) کہلاتا ہے۔اور بعض اوقات کسی کام میں سبقت لے جانے کو بھی حسد کہاجاتا ہے جیسا کہ یہ حدیث مبارکہ