Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
209 - 857
(102)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بے شک غصہ دل میں دھکنے والا ایک انگارہ ہے، کیا تم غصہ کرنے والے کی رگیں پھولتے اور آنکھیں سرخ ہوتے ہوئے نہیں دیکھتے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ بیٹھ جائے اور اگر بیٹھا تھا تو لیٹ جائے اگر اس سے بھی غصہ زائل نہ ہو تو ٹھنڈے پانی سے وضو یا غسل کرے کیونکہ آگ کو پانی ہی بجھاتا ہے۔''
(اتحاف السادۃ المتقین، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، باب بیان علاج الغضب بعد ھیجانہ، ج ۹، ص ۴۲۵)
(103)۔۔۔۔۔۔ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہے کہ پانی سے وضو کرے کیونکہ غصہ آگ سے ہے۔''
      (المرجع السابق، ص ۴۲۶)
(104)۔۔۔۔۔۔ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی ہی بجھاتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہے کہ وضو کر لے۔''
     (سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب مایقال عند الغصب، الحدیث:۴۷۸۴،ص۱۵۷۵)
(105)۔۔۔۔۔۔ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جب تمہیں غصہ آئے تو خاموش ہو جایا کرو۔''
(اتحاف السادۃ المتقین، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، باب بیان علاج الغضب بعد ھیجانہ، ج ۹، ص ۴۲۶)
(106)۔۔۔۔۔۔ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''سن لو کہ غصہ آدمی کے دل میں دھکنے والا انگارہ ہے کیا تم اس کی آنکھوں کی سرخی اور رگوں کے پھولنے کونہیں دیکھتے لہٰذا جسے غصہ آئے اسے چاہے کہ اپنا گال زمین سے لگا دے یعنی لیٹ جائے۔''
 (الفقیہ والمتفقہ للخطیب البغدادی،باب الغصب جمرۃ فی قلب ابن آدم،ج۲،ص۲۸۴)
    سیدناامام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :''شاید یہ سجدوں کی طرف اور معزز ترین اَعضا کو ذلیل ترین جگہ یعنی مٹی پر لگانے کی طرف اشارہ ہے، تا کہ انسان کانفس ذلت کا احساس پائے اور اس کی عزتِ نفس اور غرور وتکبر جوکہ غصہ کے اسباب ہیں، دور ہوجائیں۔''

(107)۔۔۔۔۔۔امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ غصہ کے وقت ناک میں پانی چڑھایا اور ارشاد فرمایا: ''غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور یہ عمل غصہ کو دور کردیتا ہے۔''
(سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب مایقال عند الغصب، الحدیث:۴۷۸۴،ص۱۵۷۵،بدون''یذہب الغضب'')
(108)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کسی شخص کو اس کی والدہ کے بارے میں عار دلائی، کہتے ہيں کہ وہ حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے، توسرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ان پر عتاب فرمایا، پھر ان سے ارشاد
Flag Counter