| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
کہ وہ اپنے مغصوب(یعنی جس پر غصہ آیااس) پر قدرت رکھتا ہے، ورنہ اگر انسان کو اپنے سے زیادہ طاقتور پر غصہ آئے اور اِنتقام لینے کی اُمید بھی نہ ہو تو اس کا خون کھال کے ظاہری حصے سے سمٹ کر دل کے اندر چلا جاتا ہے اور الٹا خوف پیدا ہو جاتا ہے، جس سے اس کا رنگ زرد ہو جاتا ہے اور اگر کسی ہم پلہ شخص پر غصہ آئے اور اس پر قدرت پا لینے میں شک ہو تو اس کا خون پھیلنے اور سمٹنے کے درمیان متردد ہوتا ہے، جس کی وجہ سے کبھی اس کا رنگ سرخ ہوتا ہے اور کبھی زرد، نیز وہ بے چینی محسوس کرتا ہے۔
اس تفصیل سے معلوم ہو اکہ غصہ کی قوت کامقام انسا ن کا دل ہوتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ خون کا کھولنا اِنتقام لینے کے لئے ہوتا ہے، یہ قوت آتشِ غضب کے بڑھکنے کے وقت کسی ایذا ء پہنچانے والی چیزکو دور کرنے کی خاطر اس کی جانب متوجہ ہوتی ہے اس سے پہلے کہ وہ اسے تکلیف دے، یا پھر اگر ایذاء پہنچ جائے تو اس کے بعد محض دل کے اطمینان پانے یا پھر انتقام لینے کے لئے متوجہ ہوتی ہے، لہٰذا جذبۂ انتقام ہی اس سے لذت پاتا ہے اور اسے روکتا ہے۔قوتِ غضب میں تفریط:
غصہ میں تفریط یعنی اس قدر کم آنا کہ بالکل ہی ختم ہو جائے یا پھر یہ جذبہ ہی کمزور پڑ جائے، تو یہ ایک مذموم صفت ہے کیونکہ ایسی صورت میں بندے کی مُرُوَّت اور غیرت ختم ہو جاتی ہے اورجس میں غیرت یامروّت نہ ہو وہ کسی قسم کے کمال کا اہل نہیں ہوتا کیونکہ ایسا شخص عورتوں بلکہ حشراتُ الارض(یعنی زمینی کيڑے مکوڑوں ) کے مشابہ ہوتا ہے۔
حضرت سیدناامام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کے اس قول کا یہی معنی ہے :''جسے غصہ دلایا گیا اور وہ غصہ میں نہ آیا تو وہ گدھا ہے اورجسے راضی کرنے کی کوشش کی گئی اور وہ راضی نہ ہوا تو وہ شیطان ہے۔''
اللہ عزوجل نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی حمیت اور شدت پر ان کی تعریف فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:(1) اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍعَلَی الْکٰفِرِیْنَ
ترجمۂ کنز الایمان: مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت۔(پ6، المائدۃ:54)
(2) اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ
ترجمۂ کنز الایمان: کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل۔(پ26، الفتح:29)
(3) یٰایٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیۡنَ وَاغْلُظْ عَلَیۡہِمْ ؕ
ترجمۂ کنز الایمان: اے غیب کی خبریں دینے والے(نبی) جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پر اور ان پر سختی کرو۔(پ10، التوبۃ:73)