Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
199 - 857
دنیوی شے کی وجہ سے اس سے حسد کیسے کروں جبکہ وہ چیز خود جہنم میں جانے والی ہو۔''

    حضرت سیدنا ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''جو بندہ کثرت سے موت کو یاد کرتا ہے اس کی خوشی اور حسد میں کمی آجاتی ہے۔''

    حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''جو میری کسی نعمت سے حسد کرتا ہے میں اس کے سواہر شخص کو راضی کر سکتا ہوں کیونکہ حاسد اسی وقت راضی ہو گا جب وہ نعمت مجھ سے زائل ہو جائے گی۔''

ایک اعرابی کا قول ہے: '' میں نے حاسد جیسا مظلوم کوئی ظالم نہیں دیکھا کہ تمہاری نعمت اس کو بری لگتی ہے۔''

    حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''اے ابن آدم! اپنے بھائی سے حسد نہ کر کیونکہ اگر اللہ عزوجل نے اس کی تکریم کے لئے وہ نعمت اسے عطا فرمائی ہے تو جسے اللہ عزوجل عزت دے اس سے حسد نہ کرو اور اگر کسی اور وجہ سے عطا فرمائی ہے تو اس سے حسد کیوں کرتے ہو جس کا ٹھکانا جہنم ہے۔'' 

    ایک بزرگ فرماتے ہیں :''حاسد شخص مجلس میں ذلت اور مذمت پاتا ہے، ملائکہ سے لعنت اور بغض پاتا ہے، مخلوق سے غم اور پریشانیاں اٹھاتا ہے، نزع کے وقت سختی اور مصیبت سے دوچار ہوتا ہے اور قیامت کے دن حشر کے میدان میں بھی رسوائی، توہین اورمصیبت پائے گا۔''
تنبیہات

تنبیہ1:
    غضب کے بارے میں وارد سابقہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ عزوجل نے غضب کو آگ سے پیدا فرما کر اسے انسان میں رکھ دیا اوراسے اس کی فطرت میں شامل کر دیا۔
غصے میں انسان کی حالتیں:
    انسان بعض اوقات کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی آتشِ غضب اتنا بھڑک اٹھتی ہے کہ اس سے انسان کے دل کا خون بھی کھولنے لگتا ہے، پھر وہ خون بدن کی دیگر رگوں میں پھیل جاتا ہے اورجب دماغ تک اس طرح پہنچتا ہے جیسا کہ کھولتا ہوا پانی تو وہ خون وہاں پھیلنے کے بعد چہرے میں بھی سرایت کر جاتا ہے، جس سے اس کا چہرہ اور آنکھیں سرخ ہو جاتی ہيں، اور کھال کا ظاہری حصہ صاف ہونے کی وجہ سے اپنے اندر موجود خون کی سرخی کو ظاہر کر دیتا ہے،ایسا اس وقت ہوتا ہے جب انسان یہ سمجھ لے
Flag Counter