Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
156 - 857
اسے عمل پر ابھارنے کا سبب بنتی ہے مگر وہ یہ عمل کرتے وقت کبھی تو اس سے اللہ عزوجل کی تعظیم کا قصدکرتا ہے اور کبھی بغیر کسی قصد کے اسے ادا کرتا ہے اوران دونوں صورتوں میں سے کوئی بھی کفر نہیں جبکہ اس صورت میں شرکِ اکبر اسی وقت ہو گا جب وہ( مثال کے طور پر) سجدوں سے غیر اللہ کی تعظیم کا قصد کرے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ ریاکار اس شرک میں اس وقت مبتلا ہوا جب اس کے نزدیک مخلوق کی قدر ومنزلت اس قدر بڑھ گئی کہ اس تعظیم نے اسے رکوع وسجود پر ابھارا اور ایک اعتبار سے اس سجدے سے اسی مخلوق کی تعظیم کی گئی اور یہ شرک خفی ہے جلی نہیں جوکہ جہالت کی انتہا ہے اور ایسا وہی کر سکتا ہے جسے شیطان دھوکے میں ڈالے اور اس وہم میں مبتلا کر دے :''عاجز اور کمزور بندہ اللہ عزوجل سے زیادہ اس کے رزق اور نفع کا مالک ہے۔'' اسی لئے وہ اللہ عزوجل سے اپنا قصد پھیر کر ان لوگوں کی طرف متوجہ ہو گیا اور وہ ان لوگوں کو اپنی جانب مائل کرنے لگا، لہٰذا اللہ عزوجل نے اسے دنیا اور آخرت میں انہیں کے حوالے کر دیا جیسا کہ احادیثِ مبارکہ میں بیان ہواکہ''ان لوگوں کی طرف چلے جاؤ جن کے لئے تم دکھاوا کیا کرتے تھے اور ان سے اجرطلب کرو۔''حالانکہ وہ اپنے لئے کسی چیزکا اختیار نہیں رکھتے، خصوصاً آخرت میں زیادہ بے اختیار ہوں گے۔

     اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
یَوْمَ لَا یَنۡفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوۡنَ ﴿ۙ88﴾اِلَّا مَنْ اَتَی اللہَ بِقَلْبٍ سَلِیۡمٍ ﴿ؕ89﴾
ترجمۂ کنزالایمان: جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر۔(پ19، الشعرآء:88۔89)

     دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:
 یَوْمًا لَّا یَجْزِیۡ وَالِدٌ عَنۡ وَّلَدِہٖ ۫ وَ لَا مَوْلُوۡدٌ ہُوَ جَازٍ عَنۡ وَّالِدِہٖ شَیۡئًا ؕ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا ٝ وَلَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللہِ الْغَرُوۡرُ ﴿33﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور اس دن کا خوف کرو جس میں کوئی باپ اپنے بچہ کے کام نہ آئیگا اور نہ کوئی کامی(کارو باری) بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دے بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو ہر گز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی اور ہر گز تمہیں اللہ کے نام پر دھوکا نہ دے وہ بڑا فریبی۔(پ21،لُقمٰن:33)
اچھا لباس پہننا ریاکاری نہیں:
    کبھی کبھارمباح کام مثلاًعبادت کے علاوہ عزت وجاہ کی طلب پر بھی ریاکاری کا لفظ بولا جاتاہے جیسے کوئی شخص اپنے لباس کی زینت سے اپنے حسنِ انتظام اور خوبصورتی پرتعریف کئے جانے کا قصد کرے۔ لوگوں کے لئے کی جانے والی ہر آرائش و زیبائش اورعزت افزائی کواسی پر قیاس کر لیں جیسے مالداروں پر عبادت یا صدقہ کی نیت سے نہیں بلکہ اس لئے خرچ کرنا کہ اسے سخی کہا جائے۔اس نوع کے حرام نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں دینی معاملات کی تلبیس اوراللہ عزوجل سے استہزاء نہیں پایا جاتا۔
Flag Counter