وَالَّذِیۡنَ یَمْکُرُوۡنَ السَّیِّاٰتِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ جو برے داؤں(فریب) کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب(پ22، فاطر: 10) ہے ۔
حضرت سیدنا مجاہد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :''ان سے مراد ریاکار ہیں۔''
(۳)ایک اور جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا ﴿110﴾٪
ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے(پ16،ا لکھف:110)
یعنی اپنے عمل میں ریاکاری نہ کرے۔ اسی لئے یہ آیتِ مبارکہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنی عبادت اور عمل پر اجر کے ساتھ ساتھ تعریف کے بھی خواہاں رہتے تھے۔
(۴)ایک اور مقام پر اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے:
اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللہِ لَا نُرِیۡدُ مِنۡکُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُکُوۡرًا ﴿9﴾
ترجمۂ کنز الایمان: ہم تمہیں خا ص اللہ کے لئے کھانا دیتے ہیں تم سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں مانگتے۔(پ29، الدھر:9)
ریاکاری کی مذمت پر احادیثِ مبارکہ:
احادیثِ مبارکہ میں ریاکاری کا ذکر کچھ اس طرح کیا گیا ہے:
(1)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''مجھے تم پر سب سے زیادہ شرکِ اصغر یعنی دکھاوے میں مبتلا ہونے کا خوف ہے، اللہ عزوجل قیامت کے دن کچھ لوگوں کو ان کے اعمال کی