کفر کی اقسام میں سے چند یہ ہيں:
٭۔۔۔۔۔۔انسان مستقبل قریب یابعید میں کفر یا شرک کرنے کا عزم کرے۔
٭۔۔۔۔۔۔زبان یا دل سے کسی کفر کو اچھا جانے اگرچہ وہ چیز ظاہرًا محالِ عقلی ہی کیوں نہ ہو، اس صورت میں وہ فورًا ہی کافر ہوجائے گا ۔
٭۔۔۔۔۔۔ایسی چیز کا عقیدہ رکھے یاایسا کام کرے یا ایسی بات کہے جو کفر کو واجب کرتی ہو اگرچہ اس کا عقیدہ رکھتے ہوئے کہے یا عنادکے طور پریا پھر استہزاء کے طور پر کہے، مثلاً کوئی شخص عالَم(یعنی کائنات) کے قدیم ہونے کاعقیدہ رکھے، اگرچہ کائنات کو نوعی طور پر قدیم جانے۔
٭۔۔۔۔۔۔ایسی بات کی نفی کرے جس کا ثبوت اللہ عزوجل کے لئے اجماع سے ثابت ہو اور اس کا ضرویارتِ دین سے ہونا بھی معلوم ہو جیسے ذات باری تعالیٰ کی صفات اصلیہ مثلا ًاس کے علم اور قدرت کا انکار کرنا یا اللہ عزوجل کے جزئیات کے عالِم ہونے کا انکار کرنا۔
٭۔۔۔۔۔۔اللہ عزوجل کے لئے ایسی چیز کو ثابت کرے جس کا اللہ عزوجل کے لئے منع ہونا ضروریات دین سے ہوجیسے رنگ، روپ وغیرہ ثابت کرنا یا یہ کہنا کہ وہ عالَم کے ساتھ متصل ہے یا ایک اختلافی مسئلہ کے مطابق عالَم سے خارج ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اللہ عزوجل کی ذات کو نقص سے متصف کرنے کااعتقادیاتوصراحتاًرکھے یاایسی بات کااعتقادرکھے جس سے نقص لازم آتاہو، لہٰذا پہلی صورت بالاجماع کفر ہے اور دوسری کے کفر ہونے میں اختلاف ہے، جبکہ ہمارے نزدیک صحیح ترین قول کے مطابق یہ دوسری صورت کفر نہیں، لہٰذا معلوم ہوا کہ اللہ عزوجل کو مجسَّم یا جوہر کہنے والے کے قول سے اللہ عزوجل پر جو نقص لازم آتاہے اس بناء پر اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی مگر جب وہ اس نقص کا اعتقاد رکھے یا اس کی صراحت کردے تواس صور ت میں اس کی تکفیر کی جائے گی،اور اسی طرح انسان کا کسی مخلوق مثلاً سورج کو سجدہ کرنا بشرطیکہ اس کے عذر پرکوئی ظاہری قرینہ دلالت نہ کررہا ہو تو اس کی بھی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ ( ظاہری قرینے کے اس کے عذر پر دلالت نہ کرنے کی یہ قید آئندہ آنے والے بیشتر مسائل میں بھی آئے گی۔)
٭۔۔۔۔۔۔نیز یہ اُصول ہے کہ ہروہ شخص جو کوئی ایسا عمل کرے جس کے بارے میں مسلمانوں کا اجماع ہو کہ یہ کام کافر ہی سے صادر ہوسکتاہے تو ایساکام کرنا بھی کفرہے اگرچہ وہ اپنے مسلمان ہونے کی صراحت ہی کیوں نہ کرتاہو۔ جیسے کفار کے ساتھ ان کا مذہبی لباس مثلا ًزنار وغیرہ پہن کران کے عبادت خانے کی طرف جانا یاکسی ایسے کاغذ کو نجاست (یعنی گندگی) میں ڈال دینا جس میں