| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
گذشتہ صفحات میں گناہِ کبیرہ کی جو تعریفیں بیان کی گئی ہیں ان سب کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ وہ اُن کبیرہ گناہوں کی تعریفیں ہیں جو ایک مسلمان سے ایمان کی حالت میں صادر ہوتے ہیں، اسی لئے بہت سے علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے انہیں شمار کرتے وقت کفر سے قریب تر گناہ یعنی قتل سے ابتداء کی ہے، جبکہ ہم اس ترتیب کو قائم نہیں رکھیں گے کیونکہ اس کتاب سے ہمارا مقصد ان تمام کبیرہ گناہوں کا احاطہ ان کے مراتب اوران کے بارے میں وارد وعید وں کے ساتھ کرنا ہے ۔
چونکہ کفر سب سے بڑا گناہ ہے، لہٰذا اس کے بارے میں کلام اور اس کے احکام کا بیان بھی مفصّل ہونا چاہے، لہٰذاسب سے پہلے ہم اپنی گفتگو کا آغاز اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عبرت نشان سے کرتے ہیں جو اسی کے بارے میں ہے ۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ
ترجمۂ کنز الایمان :بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے۔(پ 5 ،النسآء : 48) اور ایک دوسری جگہ ہے:
اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیۡمٌ ﴿13﴾
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک شرک بڑا ظلم ہے۔(پ21،لقمان:13) اور ایک دوسری جگہ ہے:
اِنَّہٗ مَنۡ یُّشْرِکْ بِاللہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللہُ عَلَیۡہِ الْجَنَّۃَ وَمَاۡوٰىہُ النَّارُ ؕ وَمَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنْ اَنۡصَارٍ ﴿72﴾
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک جو اللہ کا شریک ٹھہرائے تو اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ (پ6، المآئدۃ:72) (1)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''کیا میں تمہیں اکبرالکبائر (یعنی سب سے بڑے کبیرہ گناہوں) کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ گناہ اللہ عزوجل کا شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا ہیں۔'' یہ بات ارشاد فرماتے وقت آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ٹیک لگائے تشریف فرما تھے پھر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا :'' سن لو اور جھوٹ بولنا، سن لو اور جھوٹی گواہی دینا بھی بڑے گناہ ہیں۔'' پھر انہیں دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم کہنے لگے کاش ! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سکوت اختیار فرما لیں۔''
(صحیح البخاری ، کتاب الشھادات ، باب ماقیل فی شھادۃ الزور،الحدیث:۲۶۵۴،ص۲۰۹، بدون'' ألا وشھادۃ الزور'')
(2)۔۔۔۔۔۔ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت،مخزن جودو سخاوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''ہلا کت میں ڈالنے