| اسلامی زندگی |
سینماؤں، تھیڑوں اور دوسری عیاشی میں خرچ ہورہا ہے۔ اگر قوم کا یہ روپیہ بچ جائے اور کسی قومی کا م میں خرچ ہو تو قوم کے غریب لوگ پل جائیں اور مسلمانوں کے دن بدل جائیں غرضیکہ ان دنوں میں یہ کام سخت گناہ ہيں۔
ان دنوں میں اسلامی رسمیں:
ان مہینوں میں کیا کام کرنے چاہیں یہ تو ہم ان شاء اللہ عزوجل! اس کتاب کے آخر میں عرض کریں گے۔ کچھ ضروری باتیں یہاں بتاتے ہیں محرم کی دسویں تاریخ کو حلیم (کھچڑا)پکانا بہت بہتر ہے کیونکہ جب حضرت نوح علیہ السلام اس دن اپنی کشتی سے زمین پر آئے تو کوئی غلہ نہ رہا تھا کشتی والوں کے پا س جو کچھ غلہ کے دانے تھے وہ سب ملاکر پکائے گئے۔
( رو ح البیان، پ ۱۲، ھود: تحت ۳۸ ، ج ۴، ص ۱۴۲)
اور حدیث شریف میں آیا کہ جو کوئی عاشورہ کے دن اپنے گھر کھانے میں وسعت کرے یعنی خوب پکائے اور کھلائے تو سال بھر اس کے گھر میں برکت رہے گی۔
(کشفالخفاء، الحدیث ۲۶۴۱، ج ۲، ص۲۵۳)
اور کھچڑے(حلیم)میں ہرکھانا پڑتا ہے لہٰذا اُمید ہے کہ ہر کھانے میں سال بھر تک برکت رہے گی۔صدقہ وخیرات کرے، اپنے گھر اور محلہ میں ذکر شہادت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مجلس کرے جس میں اگر رونا آئے تو آنسوؤں سے روئے کپڑے پھاڑنا ماتم کرنا منہ پیٹنا، سوگ کرنا حرام ہے رافضیوں کی مجلسوں میں ہرگز نہ جاؤ کہ وہاں اکثر تبرّاہوتا ہے یعنی صحابہ کرام ر ضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو گالیاں دیتے ہیں ربیع الاول میں مہینہ بھر تک جب چاہومحفلِ میلاد شریف کرو مگر اس کے پڑھنے والے یا