بعد ظہر ایک چوکی پردولہا، دلہن، آمنے سامنے بیٹھے وہ لڈو جو دولہا کی طرف سے لائے گئے ہیں آس پاس پھکوائے گئے یعنی دولہا نے دولہن کی طرف پھینکا اور دلہن نے دولہا کی طرف جب سات چکر پورے ہوگئے تب وہ طوفان بدتمیزی برپا ہوتا ہے کہ شيطان بھی دم دبا کر بھاگ جائے۔وہ ترکاریاں اور آلو،شلغم، بینگن وغیرہ جو دولہا والے ساتھ لائے تھے اب ان کے دو حصّے کئے جاتے ہیں ایک حصّہ دولہا والوں کا اوردوسرا حصّہ دلہن والوں کا پھر ایک دوسرے کو اس سے مارلگاتے ہیں اس کے بعد جو اور ترّقی ہوتی ہے وہ بیان کے قابل نہیں یہ تو چوتھی ہوئی اب آگے چلئے جب دلہن کو واپس سُسرال لے گئے۔تب کنگنا کھولنے کی رسم ادا ہوئی وہ اس طرح کہ دلہن سے کنگنا کھلوایا گیا۔ ادھر سے دولہا نے اس کی گانٹھیں سخت کر رکھی ہیں ادھر سے دلہن کی پوری کوشش ہے کہ اس کو کھول ڈالے جب یہ بمشکل تمام کھولا جا چکاتب آپس میں ایک دوسرے پر پانی پھینکا اور اس میں بڑا ہر(یعنی گروہ)وہ مانا جاتا ہے جو کسی شریف آدمی کو دھوکے سے بلاکراس کو بھگودے اور جب وہ خفا ہو تو ادھر سے خوشی میں تالیاں بجیں۔سہرا کھولنے کی یہ رسم ہے کہ جب سہرا کھولا گیاتو کسی قریب کے دریا میں اور اگر دریا موجود نہ ہو تو کسی تالاب میں اگر تالاب بھی نہ تو کسی غیر آباد کنوئیں میں ڈال دیا جائے مگر یہ سہرا اگر ڈالنے کے لئے عورتیں جائیں تو گاتی بجاتی ہوئی اور واپس ہوں تو گاتی بجاتی ہوئی اور اگر مرد جاکر ڈالیں تو پڑھے لکھے تو ویسے ہی پھینک آتے ہیں اور جاہل لوگ دریا کو سلام کرکے اس میں ڈالتے ہیں پھر کچھ میٹھے چاول پکا کر خواجہ