| اسلامی زندگی |
ان کے حق میں پھر دعائے خیر کی اور ہر اک نے مبارکباد دی گھرسے رخصت جس گھڑی زہرا ہوئیں والدہ کی یاد میں رونے لگیں دی تسلی احمد مختار نے اور فرمایا شہِ ابرار نے فاطمہ ہر طر ح سے بالا ہو تم میکہ وسسرال میں اعلی ہوتم باپ تیرا ہے امام الانبیاء اور شوہر اولیاء کے پیشوا! ماہ ذی الحجہ میں جب رخصت ہوئی تب علی کے گھر میں ایک دعوت ہوئی جس میں تھیں دس سیر جوکی رو ٹیاں کچھ پنیر اور تھوڑے خرمے بیگماں اس ضیافت کا ولیمہ نام ہے اور یہ دعوت سُنت اسلام ہے سب کو اس کی راہ چلنا چاہيئے اور بری رسموں سے بچنا چاہيئے
جہیز
فاطمہ زہرا کاجس دن عقد تھا سن لو ان کے ساتھ کیا کیانقد تھا ایک چادر سترہ پیوند کی مصطفیﷺنے اپنی دختر کو جودی ایک تو شک جس کا چمڑے کا غلاف ایک تکیہ ایک ایسا ہی لحاف جس کے اندر اون نہ ریشم روئی بلکہ اس میں چھال خرمے کی بھری ایک چکی پیسنے کے واسطے ایک مشکیزہ تھا پانی کے لئے ایک لکڑی کاپیالہ ساتھ میں نقری کنگن کی جوڑی ہاتھ میں اور گلے میں ہار ہاتھی دانت کا ایک جوڑا بھی کھڑاؤں کا دیا شاہزادی سید الکونین کی بے سواری ہی علی کے گھر گئی واسطے جن کے بنے دونوں جہاں ان کے گھر تھیں سیدھی سادی شادیاں اس جہیز پاک پر لاکھوں سلام صاحب لولاک پر لاکھوں سلام