Brailvi Books

اسلامی زندگی
37 - 158
 (کڑمائی)کا وقت آیا،اس میں دلہن والوں کی طرف سے مطالبہ ہوا کہ ایسے کپڑوں کا جوڑا، اس قدر سونے کا زیور چڑھاؤ،اس فرمائش کو پورا کرنے کیلئے لڑکے والے اکثر قرض لے کر یا کسی جگہ سے زیور مانگ کر چڑھادیتے ہیں۔جب منگنی کا وقت آیا تو لڑکے والا اپنے قرابت داروں کو جمع کرکے اوّلاً ان کی دعوت اپنے گھر کرتا ہے پھر دلہن کے یہاں ان سب کو لے جاتا ہے۔ جہاں دلہن والوں کے قرابت دار پہلے ہی سے جمع ہوتے ہیں غرضیکہ دلہن کے گھر دو قسم کے میلے لگ جاتے ہیں پھران کی پر تکلّف دعوت ہوتی ہے۔ یو،پی (ھند)میں تو کھانے کی دعوت ہوتی ہے مگر پنجاب میں مٹھائی چائے کی دعوت جس میں اس رسم پر دونوں طرف سے چارپانچ سو روپیہ تک خرچ ہوجاتے ہیں۔پھر دلہن کے یہاں سے لڑکے کے سونے کی انگوٹھی اور کچھ کپڑے ملتے ہیں اور لڑکی کو دولہا والوں کی طرف سے قیمتی جوڑا، بھاری ستھرا زیور دیا جاتا ہے پھر منگنی سے شادی تک ہر عید وغیرہ پر کپڑے اور وقتاً فوقتاً موسمی میوہ(فروٹ)اور مٹھائیاں لڑکے کے گھر سے جانا ضروری ہے۔تاریخ ٹھہرانے پر لوگوں کا مجمع کر کے دعوت اور مٹھائی تقسیم ہوتی ہے پھر تاریخ مقرر ہونے سے شادی تک دونوں گھروں میں عورتوں کا جمع ہوکر عشقیہ گانے، ڈھول بجانا لازم ہوتا ہے جس میں ہر تیسرے دن مٹھا ئی ضرور تقسیم ہوتی ہے اس میں کافی خرچہ ہوتا ہے، ان تما م رسموں میں بد تر رسم مائیوں (مائیاں) اُبٹن کی رسمیں ہیں جس میں اپنی پرائی عورتیں جمع ہوکر دولہا کے اُبٹن(جسم کو صاف اور ملائم بنانے والا ایک خوشبودار مسالہ)، مہندی لگاتی ہیں، آپس میں ہنسی مذاق، دل لگی، دولہا سے مذاق وغیرہ بہت بے عزتی کی باتیں ہوتی ہیں۔ یہ میں نے وہ رسمیں عرض کی ہیں جو قریب قریب ہر جگہ کچھ فرق سے ہوتی ہیں اور جو مختلف قسم کی خاص