ہندوستان میں عام طور پر لڑکے والوں کی تمنا یہ ہوتی ہے کہ مالدارکی لڑکی گھر میں آئے جہاں ہمارے بچے کے خوب ارمان نکلیں، اس قدر جہیز لائے کہ گھر بھر جائے۔ ادھر لڑکی والوں کی آرزو ہوتی ہے لڑکا مالدار اور شوقین ہو،انگریزی بال کٹاتا ہو، داڑھی منڈاتا ہو،تاکہ ہماری لڑکی کو سینما دکھائے اور اس کے ہر ناجائز ارمان نکالے۔میں نے بہت مسلمانوں کو کہتے سنا کہ ہم داڑھی والے کو اپنی لڑکی نہ دیں گے،لڑکا شوقین چاہے اور بہت جگہ اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ لڑکی والوں نے دولہا سے مطالبہ کیاکہ داڑھی منڈوا دو تو لڑکی دی جاسکتی ہے،چنانچہ لڑکوں نے داڑھیاں منڈوائیں، کہاں تک دکھ کی باتیں سناؤں،یہ بھی کہتے سنا گیاکہ نمازی کو لڑکی نہ دیں گے، وہ مسجد کا ملّاں ہے، ہماری لڑکی کے ارمان اور شوق پورے نہ کریگا۔ پنجاب میں یہ آگ زیادہ لگی ہوئی ہے۔جب اپنی مرضی کا لڑکا مل گیاتو اب خیر سے منگنی
۱؎ :شادی کے چوتھے دن کی جانے والی ایک رسم جس میں دلہن کے گھر جاکر پھولوں کی چھڑیاں، سبزیاں اور میوے ایک دوسرے پر پھینکے جاتے ہیں ۔۲؎ : ایک رسم جس میں دلہن دولہے کے ہاتھ پر بندھے ہوئے دھاگوں کی گانٹھیں کھولتی ہے ۔