Brailvi Books

اسلامی زندگی
33 - 158
انگریزی پڑھنے سے تقدیر سے زیادہ نہیں ملتا۔ عربی پڑھنے سے آدمی بدنصیب نہیں ہوجاتا، ملے گا وہ ہی جو رزاق نے قسمت میں لکھا ہے۔ بلکہ تجربہ یہ ہے کہ اگر عالِم پورا عالِم اور صحیح العقیدہ ہو تو بڑے آرام میں رہتا ہے۔اور جو لوگ اُردو کی چند کتابیں دیکھ کر وعظ گوئی کو بھیک کا ذریعہ بنالیتے ہیں کہ وعظ کہہ کر پیسہ پیسہ مانگنا شروع کردیا۔ان کودیکھ کر عالِمِ دین سے نہ ڈر،یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنا بچپن آوارگی میں خراب کردیا ہے اور اب مہذّب بھکاری ہیں۔ ورنہ علمائے دین کی اب بھی بہت قدرو عزّت ہے۔ جب گریجویٹ مارے مارے پھرتے ہیں تو مدّرسین علما کی تلاش ہوتی ہے اور نہیں ملتے۔ اپنے لڑکو ں کو شوقین مزاج خرچیلہ نہ بناؤبلکہ ان کو سادگی اور اپنا کا م اپنے ہاتھ سے کرنا سکھاؤ، کرکٹ،ہاکی، فٹ بال سے ہرگز نہ کھیلاؤ۔کیونکہ یہ کھیل کچھ فائدہ مند نہیں بلکہ ان کوبنوٹ لکڑی کا ہنر، ڈنڈ،کثرت،کشتی کا فن،اگر ممکن ہو تو تلوار چلانا وغیرہ سکھاؤ جس سے تندرستی بھی اچھی رہے اور کچھ ہنر بھی آجائے اور تاش بازی اور پتنگ بازی،کبوتر بازی،سینمابازی،سے بچوں کو بچاؤ کیونکہ یہ کھیل حرام ہیں بلکہ میری رائے تو یہ ہے کہ بچّوں کو علم کے ساتھ کچھ دوسرے ہنر بھی سکھاؤجس سے بچہ کما کر اپنا پیٹ پال سکے۔ یہ سمجھ لو کہ ہنر مند کبھی خدا کے فضل سے بھوکا نہیں مرتا۔اس مال و دولت کا کوئی اعتبار نہیں ان باتوں کے ساتھ انگریزی سکھاؤ کالج میں پڑھاؤ۔جج بناؤ،کلکٹربناؤ دنیا کی ہرجائز ترقی کراؤ مگر پہلے اس کو ایسا مسلمان کردوکہ کوٹھی میں بھی مسلمان ہی رہے۔ہم نے دیکھا ہے قادیانیوں اور رافضیوں کے بچے گریجویٹ ہوکر کسی عہدے پر پہنچ جائیں مگر اپنے مذہب سے پورے واقف ہوتے ہیں مسلمانوں کے بچے ایسے اُلّو ہوتے ہیں کہ مذہب کی ایک بات بھی نہیں جانتے۔ خراب صحبت