| اسلامی زندگی |
لڑکے اور لڑکی کو دو سال سے زیادہ دودھ نہ پلاؤ۔ جب بچّہ کچھ بولنے کے لائق ہو تو اسے اللہ عزوجل! کا نام سکھاؤ پہلے مائیں اللہ اللہ عزوجل! کہہ کر بچّوں کو سلاتی تھیں اور اب گھر کے ریڈیو اور گراموفون باجے بجاکر بہلاتی ہیں ۔جب بچّہ سمجھ دار ہوجائے تو اس کے سامنے ایسی حرکت نہ کرو جس سے بچے کے اخلاق خراب ہوں۔کیونکہ بچّوں میں نقل کرنے کی زیادہ عادت ہوتی ہے۔جوکچھ ماں باپ کوکرتے دیکھتے ہیں وہی خودبھی کرتے ہیں۔ ان کے سامنے نمازیں پڑھو۔قرآن پاک کی تلاوت کرو۔اپنے ساتھ مسجدوں میں نمازکے لئے لے جاؤ ۱؎ اور ان کو بزرگوں کے قصّے کہانیاں سناؤ۔بچّوں کو کہانیاں سننے کا بہت شوق ہوتا ہے۔ سبق آموزکہانیاں سن کر اچھّی عادتیں پڑيں گی۔
جب اور زیادہ ہوش سنبھالیں تو سب سے پہلے ان کو پانچوں کلمے ایمانِ مجمل، ایمانِ مفصّل پھر نمازسکھاؤ۔کسی متقی یا حافظ یا مولوی کے پاس کچھ روز بٹھا کر قرآنِ پاک اور اُردو کے دینیات کے رسالے ضرور پڑھاؤ اور جس سے بچّہ معلوم کرے کہ میں کس درخت کی شاخ اور کس شاخ کا پھل ہوں، اور پاکی پلیدی وغیرہ کے احکام یاد کرے۔ اگر حق تعالیٰ نے آپ کو چارپانچ لڑکے دیئے ہیں تو کم ازکم ایک لڑکے کو عالم یا حافظ ِ قرآن بناؤ۔کیونکہ ایک حافظ اپنی تین پشتوں کو اور عالِم سات پشتوں کو بخشوائے گا۔یہ خیال محض غلط ہے کہ عالِمِ دین کو روٹی نہیں ملتی۔ یقین کرلو کہ
۱؎ : ایسا بچہ جس سے نجاست(یعنی پیشاب وغیرہ کردینے) کا خطرہ ہو اور پاگل کو مسجد کے اندر لے جانا حرام ہے،اگر نجاست کا خطرہ نہ ہو تو مکروہ(بہار شریعت، حصہ ۳،ص۹۲)