Brailvi Books

اسلامی زندگی
26 - 158
ہے۔ لیکن یہ باہمی امدا د نہیں، اگر باہمی امدا د ہوتی تو پھر بدلہ کا تقاضا کیسا؟لہٰذا یہ نیوتا کی رسم بالکل بند ہونی چاہے۔ ہاں اگر قرابت دار کو بطورِ مدد کچھ دیا جائے اور ا س کے بدلہ کی توقع نہ رکھی جائے تو واقعی مدد ہے اس میں کوئی مضائقہ نہیں، ہدیّہ سے محبَّت بڑھتی ہے او ر قرض سے محبّت ٹوٹتی ہے۔اب نیوتا بیہودہ قرض ہوگیا ہے۔ 

نوٹ ضروری:عقیقہ، ختنہ، شادی، موت ہر وقت ہی نیوتا کی رسم جاری ہے یہ بالکل بند ہونی چاہے۔
عقیقہ اور ختنہ کے اسلامی طریقے:
    طریقہ سنّت یہ ہے کہ بچّہ کی پیدائش کے ساتویں رو ز عقیقہ ہو اور اگر نہ ہوسکے تو پندرھویں دن یا اکیسویں روز یعنی پیدائش کے دن سے ایک دن پیشتر اگر جمعہ کو بچّہ پیدا ہوا تو جب بھی عقیقہ ہو جمعرات کو ہو، عقیقہ کا حکم یہ ہے کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ایک سال کی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ایک سال کی ذبح کردی جائے۔ عقیقہ کے جانور کی سری نائی کو اور ران دائی کو دی جائے، اگر یہ دونوں مسلمان ہوں۔(بہار شریعت، حصہ، ۵، ص۱۵۴، ۱۵۵ ملخصاً)
    گوشت کے تین حصّے کردیئے جائیں۔ ایک حصّہ فقراء کو خیرات کردیا جائے، دوسرا حصّہ اہلِ قرابت میں تقسیم ہو اور تیسرا حصّہ اپنے گھر میں کھا یا جائے۔ بہتر یہ ہے کہ عقیقہ کے جانور کی ہڈِّیاں توڑی نہ جائیں بلکہ جوڑوں سے علیٰحدہ کردی جائیں اور گوشت وغیرہ کھاکر ہڈِّیاں دفن کردی جائیں۔ ساتویں رو زہی بچّہ کا نام بھی رکھا جائے۔ سب سے بہتر نام ہے ''محمد ''۔مگر جس کا نام ''محمد '' ہو اس کو بگاڑ کر نہ پکارا
Flag Counter