Brailvi Books

اسلامی بہنوں کی نماز
98 - 308
تھا مگر بيٹھ کرپڑھتی رہيں تو ان کی بھی نَمازيں نہ ہوئيں ان کا لَوٹانا فرض ہے ۔
      ( مُلَخَّص از بہارِ شريعت ،حصہ 3ص79)
*کھڑے ہوکر پڑھنے کی قدرت ہوجب بھی بیٹھ کر نفل پڑھ سکتے ہیں مگر کھڑے ہوکر پڑھنا افضل ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عَمرورضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مَروی ہے ، رَحمتِ عالم ، نُورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم،رسولِ مُحتَشَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشادفرمایا: بیٹھ کر پڑھنے والے کی نَماز کھڑے ہوکر پڑھنے والے کی نِصف ( یعنی آدھا ثواب) ہے
(صَحِیح مُسلِم ،ص370 حدیث735)
 اورعُذر(مجبوری) کی وجہ سے بیٹھ کرپڑھے تو ثواب میں کمی نہ ہوگی۔ یہ جو آج کل عام رواج پڑگیا ہے کہ نَفل بیٹھ کر پڑھا کرتے ہیں بظاہِر یہ معلوم ہوتاہے کہ شاید بیٹھ کر پڑھنے کو افضل سمجھتے ہیں ایسا ہے تو اُن کا خیال غَلَط ہے ۔وِتر کے بعد جو دو رَکعت نَفل پڑھتے ہیں اُن کا بھی یِہی حُکم ہے کہ کھڑے ہوکر پڑھنا افضل ہے ۔
                 (بہارِشریعت حصّہ 4 ص 19)
(3) قِر اءَ ت :* قِراءَ ت اِس کانام ہے کہ تمام حُروف مَخارِج سے ادا کئے جائيں کہ ہر حَرف غير سے صحيح طورپرمُمتاز (نُماياں ) ہو جائے ۔
 ( عالمگيری ج1 ص69)
* آہِستہ پڑھنے ميں بھی یہ ضَروری ہے کہ خود سُن لے۔(اَیْضاً) * اگر حُرُوف تو صحيح ادا کئے مگر اتنے آہِستہ کہ خود نہ سنا اور کوئی رُکاوٹ مَثَلاً شوروغُل يا ثِقْلِ سَماعت ( يعنی بہراپَن یا اُونچا سننے کا مرض ) بھی نہيں تو نَماز نہ ہوئی ۔ (اَیْضاً) * اگرچِہ خود سننا ضَروری
Flag Counter