بابُ المدینہ (کراچی) کی ایک اسلامی بہن کے بیان کالُبِّ لُبا ب ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہونے سے پہلے میں بہت زیادہ فیشن اَیبل تھی ، فون کے ذریعے غیر مردوں سے دوستی کرنے میں بڑا لُطف آتا، پڑوس کی شادیوں میں رسمِ مہندی وغیرہ کے موقع پَر مجھے خاص طور پر بُلایا جاتا، وہاں میں نہ صِرف خُود رَقص کرتی بلکہ دوسری لڑکیوں کوبھی ڈانڈیاراس سکھاکر اپنے ساتھ نچواتی،لاتعداد گانے مجھے زَبانی یا د تھے، آواز چونکہ اچھی تھی اس لئے میری سہیلیاں مجھ سے اکثر گانا سنانے کی فرمائش کیا کرتیں۔بدقسمتی سے گھر میں T.V بَہُت دیکھا جاتا تھا،اس کے بیہودہ پروگراموں کا میری تباہی میں بَہُت اہم کردار تھا۔ رَبِیْعُ النُّور شریف کی ایک سہانی شام تھی ،نَمازِ مغرِب کے بعد میرے بڑے بھائی گھر آئے توان کے ہاتھ میں مکتبۃ المدینہ کے جاری کردہ سنّتوں بھرے بیانات کی تین کیسٹیں تھیں،ان میں سے ایک بیان کا نام ''قبر کی پہلی رات'' تھاخوش قسمتی سے یہ کیسٹ سننے کی میں نے سعادت حاصِل کی ،قبر کا مرحلہ کس قَدَر کٹھن ہے ،اس کا احساس مجھے یہ بیان سن کر ہوا ۔ مگر افسوس ! میرے دل پر گناہوں کی لَذّت کااس قَدَرغَلَبہ تھا کہ مجھ میں کوئی خاص تبدیلی نہ آئی ۔ ہاں!اتنا فرق ضَرور پڑا کہ اب مجھے گناہوں کا احساس ہونے لگا ۔ کچھ ہی دن بعد پڑوس میں دعوتِ اسلامی کی ذِمے دار اسلامی بہنوں نے