ابھی ایسا ہے کہ اگر کوئی دوسرا شخص جو طاقت میں اس سے زِيادہ ہے نچوڑے تو دو ایک بوند ٹپک سکتی ہے تو اس(پہلے نچوڑے والے) کے حق میں پاک اور دوسرے کے حق میں ناپاک ہے۔ اس دوسرے کی طاقت کا (پہلے کے حق میں)اعتبار نہیں ،ہاں اگر یہ دھوتا اور اِسی قدر نچوڑتا (جس قد ر پہلے والے نے نچوڑا تھا)تو پاک نہ ہوتا۔(اَیضاً)(3) پہلی اور دوسری مرتبہ نچوڑنے کے بعد ہاتھ پاک کر لینا بہتر ہے اور تیسری بار نچوڑنے سے کپڑا بھی پاک ہوگیا اور ہاتھ بھی، اور جو کپڑے میں اتنی تری رہ گئی ہو کہ نچوڑنے سے ایک آدھ بُوند ٹپکے گی تو کپڑا اور ہاتھ دونوں ناپاک ہیں۔ (ایضاً ) (4) پہلی یا دوسری بار ہاتھ پاک نہیں کیا ،اور اس کی تری سے کپڑے کا پاک حصہ بھیگ گیا تو یہ بھی ناپاک ہوگیا پھر اگر پہلی بار کے نچوڑنے کے بعد بھیگا ہے تو اسے دو مرتبہ دھونا چاہيے اور دوسری مرتبہ نچوڑنے کے بعد ہاتھ کی تری سے بھیگاہے تو ایک مرتبہ دھویا جائے۔ یوہیں اگر اس کپڑے سے جو ایک مرتبہ دھو کر نچوڑ لیا گیا ہے، کوئی پاک کپڑا بھیگ جائے تو یہ دوبار دھویا جائے اور اگر دوسری مرتبہ نچوڑنے کے بعد اس سے وہ کپڑا بھیگا تو ایک بار دھونے سے پاک ہو جائے گا۔