حضرتِ سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مَروی کہ شَہَنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحِب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰ لہٖ وسلم ورضی اللہ تعالیٰ عنہاکے عَہدِ کریم (یعنی مبارک زمانے ) میں ایک مرتبہ آفتاب میں گَہَن لگا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علىه واٰلہٖ وسلم مسجِد میں تشریف لائے اوربَہُت طویل قِیام و رُکوع و سجود کے ساتھ نَماز پڑھی کہ میں نے کبھی ایسا کرتے نہ دیکھا اور یہ فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی کی موت و حیات کے سبب اپنی یہ نشانیاں ظاہِر نہیں فرماتا،بلکہ ان سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، لہٰذا جب ان میں سے کچھ دیکھو تو ذکر و دُعا و اِستِغفار کی طرف گھبرا کر اٹھو۔