اسلامی بہنو !نَماز کے فِدیہ کا حيلہ ميں نے اپنی طرف سے نہيں لکھا۔ حيلۂ شَرعی کا جواز قرآن و حديث اورفِقہِ حنفی کی مُعتَبر کُتُب ميں موجود ہے۔ چنانچہِ مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان ''نور العرفان'' صَفْحَہ728پر فرماتے ہیں :حضرتِ سيدنا ايّوب عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام کی بيماری کے زمانے ميں آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زَوجۂ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ايك بار خدمتِ سراپا عظمت ميں تاخير سے حاضِر ہوئيں تو آپ علیہ الصلوٰۃ السلام نے قسم کھائی کہ ''ميں تندُرُست ہو کر سو کوڑے ماروں گا۔'' صِحّتياب ہونے پراللہ عزَّوَجَلَّ نے انہيں سو تيليوں کی جھاڑو مارنے کا حکم ارشاد فرمایا ۔ چُنانچہِ قرآنِ پاک ميں ہے :