Brailvi Books

اسلامی بہنوں کی نماز
164 - 308
100 کوڑوں کا حيلہ
    اسلامی بہنو !نَماز کے فِدیہ کا حيلہ ميں نے اپنی طرف سے نہيں لکھا۔ حيلۂ شَرعی کا جواز قرآن و حديث اورفِقہِ حنفی کی مُعتَبر کُتُب ميں موجود ہے۔ چنانچہِ مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان ''نور العرفان'' صَفْحَہ728پر فرماتے ہیں :حضرتِ سيدنا ايّوب عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام کی بيماری کے زمانے ميں آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زَوجۂ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ايك بار خدمتِ سراپا عظمت ميں تاخير سے حاضِر ہوئيں تو آپ علیہ الصلوٰۃ السلام نے قسم کھائی کہ ''ميں تندُرُست ہو کر سو کوڑے ماروں گا۔'' صِحّتياب ہونے پراللہ عزَّوَجَلَّ نے انہيں سو تيليوں کی جھاڑو مارنے کا حکم ارشاد فرمایا ۔ چُنانچہِ قرآنِ پاک ميں ہے :
وَ خُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبۡ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ ؕ
(پارہ ۲۳،ص : ۴۴)
ترجَمۂ کنزالايمان: اور فرمايا کہ اپنے ہاتھ ميں ايك جھاڑو لے کر اِس سے مار دے اور قسم نہ توڑ۔
    ''عالمگيری '' ميں حِيلوں کاايك مُستقِل باب ہے جس کا نام ''کتابُ الحِیَل'' ہے چُنانچِہ '' عالمگيری کتابُ الْحِیَل'' ميں ہے،'' جو حِيلہ کسی کا حق مارنے يا اس ميں شُبہ پيدا کرنے يا باطِل سے فَريب دينے کیلئے کيا جائے وہ مکروہ ہے اور جوحِيلہ اس لئے کيا جائے کہ آدَمی حرام سے بچ جائے يا حلال کو حاصِل کر لے وہ اچّھا ہے ۔ اس قسم کے حِيلوں کے جائز ہونے کی دليل اللہ عزَّوَجَل کا یہ فر مان ہے :
Flag Counter