| اسلامی بہنوں کی نماز |
نَماز کے بعد جو اَذکارِ طوِیلہ(طویل اَوراد) احادیثِ مبارکہ میں وارد ہیں، وہ ظُہر و مغرب و عشا میں سنّتوں کے بعد پڑھے جائیں، قبلِ سُنّت مختصر دُعا پر قَناعت چاہیے، ورنہ سنّتوں کا ثواب کم ہوجائے گا۔
(رَدُّالْمُحتار، ج2، ص300، بہارِ شريعت حصّہ 3 ص107)
احادیثِ مبارَکہ میں کسی دُعا کی نسبت جو تعداد وارد ہے اس سے کم زیادہ نہ کرے کہ جو فضائل ان اَذکار کے ليے ہیں وہ اسی عَدَد کے ساتھ مخصوص ہیں ان میں کم زیادہ کرنے کی مثال یہ ہے کہ کوئی قُفل(تالا) کسی خاص قسم کی کنجی سے کھلتا ہے اب اگر کنجی میں دندانے کم یا زائد کر دیں تو اس سے نہ کھلے گا، البتَّہ اگرشُمار میں شک واقِع ہو تو زیادہ کر سکتا ہے اور یہ زیادَت(بڑھانا) نہیں بلکہ اِتمام (مکمَّل کرنا) ہے ۔
(اَیضاً ص 302 ، اَیضاً)
پنج وقتہ نَمازوں کے سُنَن ونوافِل سے فراغت کے بعد ذَیل کے اَورَاد پڑھ لیجئے سَہولت کے لیے نَمبرضَروردئيے ہیں مگر ان میں تَرتیب شَرط نہیں ہے ۔ ہر وِرد کے اوَّل آخِر دُرُود شریف پڑھنا سونے پہ سُہاگہ ہے۔ (1) ''آیَۃُ الکُرسی''ایک ایک بار پڑھنے والا مرتے ہی داخلِ جنَّت ہو۔
(مِشْکَاۃُ الْمَصَابِیح ج1 ص197حدیث974)
(2)اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ ۔(1)
(سُنَنُ اَ بِی دَاؤد،ج2ص123حدیث1522)
(1) اے اللہ عزوجل تو اپنے ذکر ، اپنے شکر اور اپنی اچھی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔