(ظ کے بجائے ز) پڑھ ديا نَماز جاتی رہی لہٰذا جس سے'' عظيم ''صحيح ادا نہ ہووہ
''سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْکَرِيم''
( قانونِ شريعت ،حصہ اول رَدُّالْمُحتار ج 2 ص 242 )
جس سے حُروف صحيح اد ا نہيں ہوتے اُس کے لئے تھوڑی دير مَشْق کر لينا کافی نہيں بلکہ لازِم ہے کہ انہيں سيكھنے کے لئے رات دن پوری کوشش کرے اور وہ آيتيں پڑھے جس کے حُرُوف صحيح ادا کر سکتی ہو ۔ اور یہ صورَت نا ممکن ہو تو زَمانۂِ کوشِش ميں اس کی نَماز ہو جائے گی ۔ آج کل کافی لوگ اس مرض ميں مبتلا ہيں کہ نہ انہيں قرآن صحيح پڑھنا آتا ہے نہ سيكھنے کی کوشش کرتے ہيں ۔ ياد رکھئے!اِس طرح نَمازيں بر باد ہوتی ہيں۔
( بہارِ شريعت ، حصہ 3 ص 138 ، 139 مُلَخَّصاً)
جس نے رات دن کوشِش کی مگر سيكھنے ميں ناکام رہی جيسے بعض اسلامی بہنوں سے صحيح حُروف ادا ہوتے ہی نہيں اس کے لئے لازِمی ہے کہ رات دن سيكھنے کی کوشِش کرے اور زمانۂِ کوشِش ميں وہ معذور ہے اِس کی اپنی نَماز ہو جائے گی۔
(ماخوذ از فتاوٰی رضویہ ج6ص254)
اسلا می بہنو ! آپ نے قِراءَ ت کی اَہَمِّیَّت کا بخوبی اندازہ لگا ليا ہو گا ۔