شاہد رضا عطاری :ان شاء اللہ عزوجل !(کچھ توقف کرنے کے بعد اسے مخاطب کرتے ہوئے یوں کہے) اس حقیقت سے کسی مسلمان کو انکار نہیں ہوسکتا کہ مختصر سی زندگی کے ایام گزارنے کے بعدہر ایک کو اپنے پروردگار ل کی بارگاہ میں حاضر ہوکر تمام اعمال کا حساب دینا ہے۔ہر ایک کی حاضری کا انداز مختلف ہوگا ، کوئی گرمی کی وجہ سے اپنے پسینے میں ڈبکیاں کھا رہا ہو گا اور کسی کو اپنی ذلت ورسوائی کا خوف اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہو گا ، کسی کی کمر بھوک کی وجہ سے جھک چکی ہوگی تو کوئی پیاس کے مارے بلبلا رہا ہوگا ، کسی کا رنگ جہنم کو دیکھ کر زرد پڑ گیا ہوگا تو کوئی جنت سے محرومی کی بناء پر اشک ِ ندامت بہا رہا ہو گا لیکن اس کے برعکس کچھ خوش نصیب ایسے بھی ہوں گے جنہیں اس دن نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ کوئی غم ، وہ عرش کے سائے میں ہوں گے ، انہیں سیدھے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا ، حوضِ کوثر سے چھلکتے ہوئے جام پینے کو ملیں گے ، پل صراط سے بجلی کی سی تیزی سے گزر جائیں گے اور انہیں جنت میں داخلہ نصیب ہوگا ۔ یقینا پہلا گروہ ان لوگوں کا ہوگا جنہوں نے اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں بسر کی ہو گی ،جبکہ دوسرا گروہ ان بندوں کا ہوگا جن کی زندگی اللہ عزوجل اور اس کے رسول اکی اطاعت میں گزری ہوگی ۔
پیارے بھائی!اگر ہم میدان ِ محشر کی پریشانی سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی مختصر سی زندگی اس طرح سے گزارنی چاہیے کہ اللہ عزوجل ہم سے راضی ہوجائے ۔ اس مقصد کو پانے کے لئے علمِ دین کی حاجت ہے اور علمِ دین کے حصول کے لئے بہترین ذریعہ راہِ خدا عزوجلمیں سفر کرنے والے عاشقانِ رسول اکے مدنی قافلوں میں سفر کرنا بھی ہے ۔الحمدللہ ل! دعوتِ اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلے 3دن ،12 دن ،30 دن اور 12 ماہ کے لئے راہِ خدا عزوجل میں سفر کی سعادت حاصل کرتے رہتے