بلال عطاری : فیاض بھائی ! آپ کس شعبے سے وابستہ ہیں ؟
فیاض بھائی : میں کپڑے کا کاروبار کرتا ہوں ۔
بلال عطاری : اللہ تعالیٰ آپ کے کاروبار میں برکت عطا فرمائے ۔(پھرچندمختصر اور محتاط سوالات اس کے کاروبار میں کرے،پھریوں گویا ہو ) پیارے بھائی دیکھئے! ہم کاروبار اس لئے کرتے ہیں کہ ہماری ضروریاتِ زندگی پوری ہوجائیں اورہم آسائشیں حاصل کر سکیں،۔۔۔۔۔۔ ہمارا یہ مقصد اسی وقت پورا ہوسکتا ہے جب ہم اپنے کاروبار سے خاطر خواہ نفع کمانے میں کامیاب ہوجائیں ، ۔۔۔۔۔۔اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ اس کے لئے اپنے کاروبار کا ہر پہلو سے خیال رکھنا پڑتا ہے ، اس کا حساب کتاب رکھنا، لاگت اور آمدنی کا حساب کر کے نفع کی رقم الگ کر نا اور اس میں سے اپنی ضرورت کے بقدر رقم رکھنے کے بعد بقیہ دوبارہ کاروبار میں لگا دینا ، ۔۔۔۔۔۔ کسی گاہگ کو بد ظن نہ ہونے دینا، وقت پر دکان کھولنا اور بند کرنا ، مارکیٹ کے حالات کا جائزہ لیتے رہنا ، تجربہ کار لوگوں سے مشاورت کرتے رہنا وغیرہ ۔۔۔۔۔۔
لیکن ذراغور کیجئے کہ یہ دنیوی کاروبار تو یہیں رہ جائے گا کیونکہ اس کی منزل تومحض دنیاوی ضروریات کو پوراکرنا اور سہولیاتِ زندگی حاصل کرلینا ہے ،۔۔۔۔۔۔ اس لئے بطورِ مسلمان ہمیں اپنی دنیا کی ہی نہیں بلکہ بہتر آخرت کی بھی فکر ہونی چاہئے ،۔۔۔۔۔۔ اور بہتر آخرت کے لئے ضروری ہے کہ ہمیں اپنے کاروبار ِ آخرت پر اس سے کہیں زیادہ توجہ دینی چاہئے جتنی توجہ ہم اس دنیاوی کاروبار پر دیتے ہیں ،۔۔۔۔۔۔لہذا! ہمیں چاہیے کہ اپنا محاسبہ کریں ، جو عمل نقصان ِ آخرت کا سبب بنے اسے چھوڑ دیں اور جو عمل آخرت کے لئے نفع بخش ثابت ہو اسے اپنائے رکھیں ۔۔۔۔۔۔اس مقصد میں کامیابی کے لئے راہِ خدا