اور جو خدا کے ساتھ دوسرے خدا کو پکارے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو اس کا حساب رب کے پاس ہے ۔ ِّہٖ (پ18،المؤمنون:117)
اس آیت نے خوب صاف فرمادیا کہ پکارنے سے خدا سمجھ کر پکارنا مراد ہے ۔
اعتراض : ان ممانعت کی آیتو ں میں پکارنا ہی مراد ہے مگر کسی کو دور سے پکارنا مراد ہے یہ سمجھ کر کہ وہ سن رہا ہے یہ ہی شرک ہے ۔(جواہر القرآن)
جواب :یہ بالکل غلط ہے ۔ قرآن کی ان آیتو ں میں دور نزدیک کا ذکر نہیں ۔ یہ قید آپ نے اپنے گھر سے لگائی ہے نیز یہ قید خود قرآن کی اپنی تفسیر کے بھی خلاف ہے لہٰذا مردود ہے نیز اگر دور سے پکارنا شرک ہو تو سب مشرک ہوجائیں گے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینہ منورہ سے حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پکارا حالانکہ وہ نہا وند میں تھے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ بنا کر تمام دور کے لوگوں کو پکارا اور تمام روحوں نے جو قیامت تک پیدا ہونیوالی تھیں انہوں نے سن لیا جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے ۔ آج نمازی حضور علیہ السلام کو پکارتا ہے: