Brailvi Books

علمُ القرآن
100 - 244
سے سننا شرک نہیں تو ہم بھی کہیں گے کہ نبوت کے نور کی طاقت ایک سبب ہے اور سبب کے ماتحت سننا شر ک نہیں غرضیکہ یہ اعتراض نہایت ہی لغوہے ۔

اعتراض: ممانعت کی آیتو ں میں مردو ں کو پکارنا مراد ہے یعنی مرے ہوئے کو پکارنا یہ سمجھ کر کہ وہ سن رہاہے شرک ہے ۔    (جواہر القرآن)

جواب : یہ بھی غلط ہے چند وجہ سے ایک یہ کہ یہ قید تمہارے گھر کی ہے قرآن میں نہیں آئی۔ رب تعالیٰ نے مردہ ، زندہ ، غائب ، حاضر ، دور نزدیک کی قید لگا کر ممانعت نہ فرمائی ۔ لہٰذا یہ قید باطل ہے ۔ دوسرے یہ کہ یہ تفسیر خود قرآن کی تفسیر کے خلاف ہے ۔ اس نے فرمایا کہ دعا سے مراد عبادت ہے ۔ تیسرے یہ کہ اگر مردو ں کو پکارنا شرک ہو تو ہرنمازی نمازمیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو پکارتا ہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ
اے نبی!علیہ الصلوۃ والسلام آپ پر سلام ہو،حالانکہ حضور وفات پاچکے ہیں ہم کو حکم ہے کہ قبر ستان جا کر یوں سلام کریں :
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ ،
اے مسلمانوں کے گھر والو! تم پر سلام ہو۔

    ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کی ہوئی چڑیوں کو پکارا اور انہوں نے سن لیا ۔ رب تعالیٰ نے فرمایا :
ثُمَّ ادْعُہُنَّ یَاۡتِیۡنَکَ سَعْیًا
پھر ان مرے ہوئے پرندوں کو پکار و وہ دوڑتے ہوئے تم تک آجائیں گے ۔(پ3،البقرۃ:260)

    حضرت صالح علیہ السلام اور حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم کو ان کی ہلاکت کے بعد پکارا ، صالح علیہ السلام کا قصہ سورہئ اعراف میں اس طر ح بیان ہوا :
Flag Counter