؎ گرہمیں مکتب وہمیں مُلّا کار طفلاں تمام خواہد شد!
لفظ'' وَلِیْ'' وَلْیٌ یا وَلَایَۃٌ سے بنا ہے ۔ وَلْیٌ کے معنی قرب اور ولایت کے معنی حمایت ہیں، لہٰذا وَلْیٌ کے لغوی معنی قریب ، والی ، حمایتی ہیں۔ قرآن شریف میں یہ لفظ اتنے معنی میں استعمال ہوا ہے ۱۔دوست ،۲۔قریب ،۳۔مددگار ،۴۔والی، ۵۔وارث ، ۶۔معبود ، ۷۔ مالک ، ۸۔ ہادی
(1) اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ رٰکِعُوۡنَ ﴿۵۵﴾
تمہارا دوست یا مدد گار صرف اللہ اور اسکے رسول اور وہ مومن ہیں جونماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اوررکوع کرتے ہیں۔(پ6،المائدۃ:55)
(2)نَحْنُ اَوْلِیٰٓـؤُکُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَۃِ
ہم ہی تمہارے دوست ہیں دنیا اور آخرت میں۔(پ24،حٰمۤ السجدۃ:31)