وہ ابلیس اور اس کے قبیلہ والے تم کو وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں دیکھ نہیں سکتے ۔(پ8،الاعراف:27)
غیب کے متعلق نفی کی آیا ت بھی ہیں اور ثبوت کی بھی ۔ نفی کی آیات میں واجب، قدیم، کل ،ذاتی علم مراد ہے اور ثبوت کی آیات میں عطائی، ممکن، بعض، عارضی علم مراد۔ رب فرماتا ہے :
(1) وَلَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۵۹﴾
نہیں ہے کوئی خشک وتر چیز مگر وہ روشن کتاب لوح محفوظ میں ہے ۔(پ7،الانعام:59)
(2) وَتَفْصِیۡلَ الْکِتٰبِ لَارَیۡبَ فِیۡہِ
قرآن لوح محفوظ کی تفصیل ہے اس میں شک نہیں ۔(پ11،یونس:37)
(3) وَ نَزَّلْنَا عَلَیۡکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ
ہم نے آپ پرقرآن اتاراتمام چیزوں کاروشن بیان(پ14،النحل:89)
اگر کسی کو علم غیب نہیں دینا تھا تو لکھا کیوں ؟ اور جب لکھا گیا تو جو فرشتے لوح محفوظ کے حافظ ہیں تو انہیں علم ہے یا نہیں ؟ضرور ہے تو چا ہیے کہ یہ سب الٰہ بن جائیں ۔ رب تعالیٰ نے فرمایا کہ حکم صرف اللہ کا ہے :
(1) اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ
نہیں ہے حکم مگر اللہ کا۔(پ7،الانعام:57)