غیب بھی مانتے ہیں او رمافوق الاسباب متصرف بھی لہٰذا یہ لوگ کلمہ کے ہی منکر ہیں اور مشرک ہیں۔
لیکن یہ معنی بالکل غلط قرآن کے خلاف ، خود وہابیہ کے عقیدوں کے خلاف ، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور عام مسلمین کے عقائد کے خلاف ہیں ، اس لئے کہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ فرشتے باذن پروردگار عالم میں تصرف کرتے ہیں کوئی زندوں کو مردہ کرتا ہے (ملک الموت) کوئی ماں کے پیٹ میں بچہ بناتا ہے کوئی بارش بر ساتا ہے کوئی حساب قبر لیتا ہے اوریہ سارے کام مافوق اسباب ہیں ۔ تو وہابیہ کے نزدیک یہ سارے الٰہ ہوگئے اسی طر ح انبیاء کرام علیہم السلام ما فوق اسباب حاجتیں پوری کرتے ہیں مشکلیں حل کرتے ہیں عیسیٰ علیہ السلام اندھوں، کوڑھوں کو اچھا اور مردو ں کو زندہ کرتے تھے ۔ یوسف علیہ السلام اپنی قمیص سے باذن پروردگار نابینا آنکھ کو بینا کرتے تھے وغیرہ وغیرہ، یہ سب الٰہ ٹھہرے او ران کا ماننے والا