قرآن شریف کی اصطلاحوں میں سے ایک اصطلاح لفظ الٰہ بھی ہے اس کی پہچان مسلمان کے لئے بہت ہی ضروری ہے کیونکہ کلمہ میں اسی کا ذکر ہے : لا الہ الا اللہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں نماز شر وع کرتے ہی پڑھتے ہیں: لاالہ غیرک یا اللہ ! تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں غرضیکہ ایمان اور نماز بلکہ سارے اعمال اسی کی پہچان پر موقوف ہیں اگرہمیں الٰہ کی خبر نہ ہو تو دوسروں سے نفی کس چیز کی کریں گے اور رب تعالیٰ کیلئے ثبوت کس چیز کا کرینگے غرضیکہ اس کی معرفت بہت اہم ہے ۔
الٰہ کے متعلق ہم تین چیز یں عرض کرتے ہیں :
(۱) الٰہ کے معنی وہابیوں نے کیا سمجھے اور اس میں کیا غلطی کی(۲) الٰہ ہونے کی پہچان شریعت اورقرآن میں کیا ہے یعنی کیسے پہچا نیں کہ الٰہ حق کو ن ہے اور الٰہ باطل کون (۳)ا لوہیت کامدار کس چیز پر ہے یعنی وہ کونسی صفات ہیں جن کے مان لینے سے اسے الٰہ ماننا پڑتا ہے ۔ان تینوں باتو ں کو بہت غور سے سوچنا چاہیے۔
(۱) وہابیوں نے الٰہ کا مدار دو چیزوں پر سمجھا ہے علم غیب اور مافوق الاسباب حاجات میں تصرف یعنی جس کے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ وہ غیب کی بات جان لیتا ہے یا وہ بغیر ظاہری اسباب کے عالم میں تصرف یعنی عملدر آمد کرتا ہے حاجتیں پوری اور مشکلیں حل کرتاہے وہی الٰہ ہے، دیکھو جواہر القرآن صفحہ۱۱۲ ( قانون لفظ الہ)مصنفہ مولوی غلام اللہ خاں صاحب۔
اس سے ان کا مقصود یہ ہے کہ عام مسلمان انبیاء علیہم السلام،اولیاء رحمہم اللہ کو عالم