| علمُ القرآن |
وَّ مِنۡکُمْ مُّؤْمِنٌ ؕ (پ28،التغابن:2) (2) قُلۡ لَّمْ تُؤْمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیۡمَانُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمْ ؕ
اے منافقو! یہ نہ کہو کہ تم ایمان لے آئے بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اطا عت قبول کرلی اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ۔(پ26،الحجرات:14) منافق مسلم بمعنی مطیع تو تھے مومن نہ تھے ۔
(3) فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّہٗ لِلْجَبِیۡنِ ﴿۱۰۳﴾ۚوَ نَادَیۡنٰہُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰہِیۡمُ ﴿۱۰۴﴾ۙ
توجب دونوں ابراہیم واسماعیل نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹادیا (ذبح کیلئے) اور ہم نے ندا کی اے ابراہیم(پ23،الصّٰفّٰت:103،104)
(4) اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗۤ اَسْلِمۡ ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۳۱﴾
جب فرمایا ابراہیم سے ان کے رب نے مطیع ہوجاؤ عرض کیا کہ میں اللہ رب العالمین کا فرمانبردار ہوا۔(پ1،البقرۃ:131)
ان دونوں آخر ی آیات میں اسلام کے معنی ایمان نہیں بن سکتے کیونکہ انبیاء پیدا ئشی مومن ہوتے ہیں ان کے ایمان لانے کے کیا معنی ؟
ان آیات میں اسلام بمعنی اطاعت ہے ۔ پہلی آیت میں تکوینی امور کی اطاعت مراد ہے جیسے بیماری ، تندرستی ، موت، زندگی وغیرہ ۔ آخری دوسری دوآیات میں تشریعی احکام کی اطا عت مراد ہے لہٰذا منافق مومن نہ تھے مسلم تھے یعنی مجبوراً اسلامی قوانین کے مطیع ہوگئے تھے ۔