(6)وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوۡنَ وَ مِنَّا الْقَاسِطُوۡنَ ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِکَ تَحَرَّوْا رَشَدًا ﴿۱۴﴾
اورہم میں سے کچھ مسلمان ہیں اور کچھ ظالم جو اسلام لائے انہوں نے بھلائی تلاش کرلی ۔(پ29،الجن:14)
ان آیات اور ان جیسی دو سری آیات میں اسلام ایمان کے معنی میں ہے۔ لہٰذا جیسے ایمان کا دار ومدار امت کے لئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سچی غلامی پر ہے ایسے ہی اسلام کا مدار بھی اس سرکار کی غلامی پر ہے۔ لہٰذا حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت کا منکر نہ مومن ہے نہ مسلمان جیسے شیطان نہ مومن ہے نہ مسلم بلکہ کافر و مشرک ہے ۔
بعض آیات میں اسلام بمعنی اطا عت آیاہے جیسے
(1) لَہٗۤ اَسْلَمَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ
اس اللہ کے فرمانبردار ہیں تمام آسمانوں اور زمینوں کے لوگ ۔(پ3،اٰل عمرٰن:83)
ہر ایک اس کامطیع ہے یعنی تکوینی احکام میں۔(پ۲۱،الروم:۲۶)
یہا ں''قانتین'' نے''اسلم'' کی تفسیر کردی کیونکہ ساری چیز یں رب تعالیٰ کی تکوینی امور میں مطیع توہیں مگر سب مومن نہیں بعض کا فر بھی ہیں۔