Brailvi Books

علمُ القرآن
42 - 244
(7) قُلْ اَبِاللہِ وَاٰیٰتِہٖ وَرَسُوۡلِہٖ کُنۡتُمْ تَسْتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۶۵﴾لَاتَعْتَذِرُوۡا قَدْکَفَرْتُمۡ بَعْدَ اِیۡمَانِکُمْ ؕ
فرمادوکہ کیا تم اللہ اور اس کی آیتو ں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر ۔(پ10،التوبۃ65۔66)

    جن منافقین کا اس آیت میں ذکر ہے انہوں نے ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے علم غیب کا مذاق اڑایا تھا کہ بھلا حضور کب روم پر غالب آسکتے ہیں اس گستاخی کو رب کی آیتو ں کی گستاخی قرار دے کر ان کے کفرکا فتوی صادر فرمایا کس نے ؟ کسی مولوی نے ؟ نہیں ! بلکہ خود اللہ جل شانہ نے ۔
(8) یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقُوۡلُوۡا رَاعِنَا وَقُوۡلُوا انۡظُرْنَا وَاسْمَعُوۡا ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۰۴﴾
اے ایمان والو!میرے پیغمبرسے راعنا نہ کہاکرو انظر ناکہا کرو خوب سن لو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔(پ1،البقرۃ:104)

    اس سے پتا لگا کہ جو کوئی توہین کے لئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ایسا لفظ بولے جس میں گستاخی کا شائبہ بھی نکلتا ہو وہ ایمان سے خارج ہوجاتا ہے۔ (جیسے راعنا) 

    خلاصہ یہ ہے کہ رب تعالیٰ نے مسلمانوں کو قرآن میں ہر جگہ
یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
کہہ کر پکارا، موحدیا نمازی یا مولوی یا فاضل دیوبند کہہ کر نہ پکارا تا کہ پتا لگے کہ رب تعالیٰ کی تمام نعمتیں ایمان سے ملتی ہیں اور ایمان کی حقیقت وہ ہے جو ان آیتوں میں بیان ہوئی یعنی غلامی سرکار مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ۔ توحید نوٹ کا کا غذ ہے اور
Flag Counter